جارجیا: ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جارجیا میں حزبِ اختلاف کے احتجاج کے چھٹے روز صدر میخائل ساکیشولی نے ملک میں پندرہ روز کی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ ملک کے وزیرِ اعظم زوراب نوگائدیلی نے ٹیلی وژن پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سے قبل صدر میخائل ساکیشولی نے الزام لگایا تھا کہ ملک میں جاری بحران کے پیچھے روس کی خصوصی فورسز کا ہاتھ ہے۔ صدر ساکیشولی نے احتجاج کرنے والوں کی طرف سے لگائے گئے کرپشن کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔ جارجیا میں پہلے 48 گھنٹے کی ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن بعد میں اسے بڑھا کر پندرہ دن تک کر دیا گیا ہے۔ جارجیا کے اکنامکس منسٹر جارجی آرویلادزے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایمرجنسی کے اقدامات میں سڑکوں پر احتجاج نجی ٹیلی وژن جینلز پر پابندی شامل ہے۔
بدھ کے روز پولیس نے حزبِ مخالف کے احتجاجی مظاہرے کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی توپ، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ حکام کے مطابق 500 کے قریب مظاہرین کو طبی امداد دینی پڑی جو کہ آنسو گیس سے متاثر ہوئے تھے۔ وائٹ ہاؤس نے جارجیا میں ہونے والے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کرنے سے پہلے صدر ساکیشولی نے کہا تھا کہ ان کے ملک کو ’ایک بہت سنجیدہ بحران کا سامنا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ثبوت ہیں کہ روس کے اعلیٰ افسران ان کے خلاف سازش میں ملوث ہیں۔ | اسی بارے میں روس: معاہدے سے علیحدگی14 July, 2007 | آس پاس روس جارجیا سےفوج نکالنے پر تیار31 May, 2005 | آس پاس وسط ایشیامیں ہلچل26 March, 2005 | آس پاس یورپ۔امریکہ تعلقات اور بش21 February, 2005 | Debate امریکہ اور یورپ میں تنازعہ19 March, 2005 | آس پاس جی ایٹ اجلاس پر عراق کا سایہ 09 June, 2004 | آس پاس قرض اورجمہوریت دینے کے فیصلے11 June, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||