امریکی میزائل نظام پر روس کا ردعمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی صدر ولادیمر پوتن رومانیہ میں نیٹو کے اتحادی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ وہ روسی صدر کی حیثیت سے اس اجلاس میں پہلی اور آخری مرتبہ شریک ہو رہےہیں۔ روسی صدر کی نیٹو ممالک کے رہنماؤں سے یہ ملاقات نیٹو ممالک کی طرف سے یورپ میں میزائل کی تنصیب کے امریکی منصوبے کی توثیق کے بعد ہو رہی ہے۔ اتحادی ممالک کے رہنماجارجیا اور یوکرین کی تنظیم کی رکنیت کے فیصلے اور یورپ میں امریکی میزائل ڈیفنس نظام کے منصوبے کی توثیق پر روس کا ردعمل جاننا چاہتے ہیں جو دونوں باتوں کا مخالف ہے۔ جمہوریہ چیک میں امریکی میزائل ڈیفنس ریڈار روس کی مخالفت کے باوجود لگائے جائیں گے۔ نیٹو اجلاس میں فی الحال جارجیا اور یوکرین کو چھبیس رکنی تنظیم کی رکنیت پر اتفاق نہیں ہوا۔روس ان ممالک کی نیٹو میں شمولیت کے حق میں نہیں اور اس کا کہنا ہے کہ نیٹو کی جانب سے سابق سوویت ریاستوں سے مستقبل میں رکنیت کا وعدہ ایک ’بڑی سٹریٹجک غلطی‘ ہے۔ جارجیا اور یوکرین کے علاوہ مقدونیہ کو بھی رکنیت نہ دینے کا فیصلہ ہوا ہے تاہم البانیہ اور کروشیا کو اتحاد میں شمولیت کے مثبت اشارے دیے گئے ہیں۔ مقدونیہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ نیٹو میں شمولیت سے قبل یونان کے ساتھ اپنے تنازعات ختم کرے۔ نیٹو ممالک نے پولینڈ اور چیک جمہوریہ میں امریکہ کے میزائل ڈیفنس نظام نصب کرنے کا منصوبہ قبول کر لیا ہے۔ اس بات کا اعلان نیٹو اجلاس کے دوران امریکی اور جمہوریہ چیک کے حکام کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کیا گیا ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ ریڈار امریکہ کی دوسری میزائل دفاعی سہولیات سے منسلک ہوں گے‘۔ روس کا کہناہے کہ اگر پولینڈ اور چیک ریپبلک نے اپنی سر زمین پر امریکی میزائل دفاعی نظام نصب کیا تووہ اس پر حملہ کر سکتا ہے۔ نیٹو ممالک نے اس امر پر بھی اتفاق کیا ہے کہ امریکی میزائل نظام کے تحت جن ممالک کی حفاظت ممکن نہیں وہاں نیٹو کے تحت متوازن دفاعی میزائل نظام کی تنصیب کے لیے کوششیں کی جائیں۔ بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ کے نیٹو اتحادیوں نے یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ روس کو اس حوالے سے تعاون پر آمادہ کرنے کے لیے امریکہ سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں ’افغانستان میں ہار کے متحمل نہیں‘02 April, 2008 | آس پاس نیٹو کا مستقبل خطرے میں ہے: امریکہ07 February, 2008 | آس پاس افغانستان کے لیے مزید فوج کا مطالبہ01 February, 2008 | آس پاس رومانیہ، بلغاریہ یورپی یونین میں01 January, 2007 | آس پاس نیٹو فوج کی تعیناتی پر اختلافات29 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||