روسی ٹینک جورجیامیں داخل ہوگئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جورجیا کے صدر میخائل ساکشویلی نے کہا ہے کہ روسی ٹینک جورجیا کے علیحدگی پسند علاقے جنوبی اوسیٹیا میں داخل ہو گئے ہیں۔ جورجیا کے صوبے جنوبی اوسیٹیا کے روس کے ساتھ تعلقات ہیں اور یہ علاقہ انیس سو نوّے کی دہائی سے عملاً خودمختار ہے۔ جنوبی اوسیٹیا میں کئی لوگوں کے پاس روسی پاسپورٹ ہیں۔ جورجیا کی اس علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک عرصے سے علیحدگی پسندوں سے لڑائی جاری ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ روس ان علیحدگی پسندوں کی حمایت کرتا ہے۔ تازہ ترین واقعات میں جورجیا اور علیحدگی پسندوں نے ایک دوسرے پر جمعرات کو طے ہونے والے جنگ بندی کا معادہ توڑنے کے الزامات لگائے ہیں۔ جورجیا کے طیاروں نے علیحدگی پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بھی بنایا۔
جورجیا نے اطلاعات کے مطابق کہا ہے کہ روس کے اس لڑائی میں ملوث ہونے سے باقاعدہ جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ جبکہ روس کے صدر نے جنوبی اوسیٹیا میں اپنے شہریوں کے دفاع کا عہد کیا ہے۔ روس نے ہمیشہ کہا ہے کہ وہ جورجیا کی علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے لیکب وہ اپنے شہریوں کا دفاع کرے گا۔ ماسکو میں وزارت دفاع نے کہا ہے کہ جنوبی اوسیٹیا میں امن فوج کے اس کے دس اہلکار ہلاک اور تیس زخمی ہو گئے ہیں۔ پندرہ شہریوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔ یورپی یونین، امریکہ اور نیٹو نے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ دوسری طرف چین نے اولمپک کھیلوں کے دوران دنیا بھر میں امن کا مطالبہ کیا ہے۔ جورجیا کے صدر نے کہا کہ ایک سو پچاس ٹینک اور دیگر گاڑیاں جنوبی اوسیٹیا میں داخل ہو گئی ہیں۔ انہوں نے سی این این کو بتایا کہ ’روس ہماری ہی سرزمین پر ہم سے جنگ کر رہا ہے‘۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جورجیا کی فوج نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے دو روسی طیارے مار گرائے ہیں۔ روس نے کہا کہ اس کے طیارے جورجیا کی حدود میں داخل نہیں ہوئے۔ ماسکو میں وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ جنوبی اوسیٹیا میں امن فوجیوں کی مدد کے لیے کمک بھجوائی گئی ہے تاکہ ’خون ریزی کو روکا جا سکے‘۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ماسکو میں اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ جنوبی اوسیٹیا کے دیہات میں نسل کشی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے ٹیلی ویژن پربیان میں کہا کہ پناہ گزینوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور انسانی بحران کا خطرہ ہے۔ | اسی بارے میں جارجیا: ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان08 November, 2007 | آس پاس روس: معاہدے سے علیحدگی14 July, 2007 | آس پاس میگافون کی ضرورت نہیں: نیٹو26 June, 2007 | آس پاس امریکی میزائل نظام پر روس کا ردعمل04 April, 2008 | آس پاس شاہراہ ریشم کی ایک اور کڑی08 February, 2007 | آس پاس جارجیا انقلاب: بش کیلیے مثالی 10 May, 2005 | آس پاس جارجیا بحران: سفارتی کوششیں22 November, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||