BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 November, 2003, 23:47 GMT 04:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جارجیا بحران: سفارتی کوششیں
پارلیمان پر حزب اختلاف کے حامیوں نے قبضہ کر لیا ہے
پارلیمان پر حزب اختلاف کے حامیوں نے قبضہ کر لیا ہے
جارجیا کے صدر ایڈورڈ شِوارڈ ناتزےاور حزب اختلاف کے حامیوں کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے کے لئے فوری طور پر سفارتی کوششوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

حزب اختلاف کے حامیوں نے گزشتہ روز پارلیمنٹ میں گھس کر قبضہ کر لیا تھا۔

روسی وزیر خارجہ ایگور ایوانوف جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی میں ایڈورڈ شیورڈ ناتزے سے ملاقات کر رہے ہیں۔

اس سے قبل انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے حزب اختلاف کے حامیوں سے خطاب کیا اور حزب اختلاف کے ایک رہنما میخائل ساکاشویلی سے ملاقات کی۔

بعد ازاں ساکاشویلی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں اس بحران کا تصفیہ ڈھونڈنے میں روس فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔

ادھر جارجیا کےصدر ایڈورڈ شِوارڈناتزے نے حزب اختلاف کو خبردار کیا ہے کہ فوج اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ نہ تو فوج کو ایسے احکامات ملے ہیں اور نہ ہی صورت حال ایسی ہے کہ فوج کی مداخلت ناگزیر ہو۔

شیورڈ ناتزے نے کہا تھا کہ وہ اقتدار سے علیحدہ نہیں ہوں گے اور اگر پارلیمان نے ان کے ایمرجنسی نافذ کرنے کے حکم کی توثیق نہ کی تو وزارتِ داخلہ کے مسلح دستے کارروائی کریں گے۔

ادھر ماسکو میں حکام نے واضح کیا ہے کہ جارجیا میں تعینات روسی فوجیں جارجیا میں پیدا ہونے والے سیاسی بحران میں مداخلت نہیں کریں گی۔

دریں اثناء یوکرائن کے صدر لیوند کچما نے جو کہ آج کل سابق سویت یونین کی ریاستوں کی فیڈریشن کے سربراہ ہیں جارجیا میں حزب اختلاف کی طرف سے پارلیمان پر قبضے کی مذمت کی ہے۔

سنیچر کوجارجیا کے دارالحکومت تبلیسی میں اپوزیشن کے حامیوں نے پارلیمان پر دھاوا بولنے کے بعد اس عمارت پر بھی قبضہ کر لیا تھا جس میں صدر ایڈورڈ شِوارڈناتزے کے دفاتر واقع ہیں۔

حزبِ اختلاف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جارجیا میں ایک پرامن انقلاب آ چکا ہے۔

صدر ناتزے نے پارلیمنٹ پر قبضے کے بعد ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا تھا لیکن صدر کے دفاتر پر قبضہ ہونے کے بعد حزبِ اختلاف کی ایک رہنما نے اپنے عبوری سربراہ ہونے کا اعلان کیاہے۔

مظاہرین انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے صدر ایڈورڈ شیورڈناتزے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

گزشتہ ماہ کے متنازعہ انتخابات کے بعد صدر سنیچر کو پارلیمان کے اوّلین اجلاس سے خطاب کر رہے تھے کہ اپوزیشن کے بپھرے ہوئے حامی پارلیمانی عمارت کے دروازے توڑ کر اندر گھُس آئے۔

صدر کے ذاتی محافظ انہیں اپنے حصار میں لے کر عمارت سے باہر لے آئے۔

اس موقع پر صدر کے حامیوں نے پارلیمان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا چاہا لیکن
ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو جانے والے مظاہرین نے ان کی ایک نہ چلنے دی
اس شورش کو منظّم کرنے میں اپوزیشن کے لیڈر مِیخائل ساکش وِل پیش پیش ہیں جنھوں نے صدر سےاپیل کی ہے کہ وہ خون خرابے کے بغیر اقتدار سے الگ ہو جائیں۔

جب سے بین الاقوامی مبصّرین نے پچھلے ماہ کے انتخابات کو ایک دھاندلی قرار دیا ہے اپوزیشن کی طرف سے حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

صدر شوار ناتزے نے اپنے حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مستعفی نہیں ہونگے اور اپنی صدارت کی مدّت پوری کریں گے۔

تازہ ترین اطلاع کے مطابق صدر نے ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد