گوری میں موڈ کی تبدیلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ دو دنوں کے دوران روسی طیاروں کی طرف سے گوری کی آبادی پر کی گئی بمباری کی وجہ سے ہر طرف پریشانی کا عالم تھا لیکن اتوار کے روز ماحول اچانگ پرسکون محسوس ہونے لگا۔ فوجیوں کے گروپ ابھی بھی کاندھوں سے بندوقیں لٹکائے فوجی وردیوں کے بجائے سویلین لباس میں گوری کی گلیوں میں گھومتے ہوئے اور ملک کے دارالحکومت تبلیسی کی طرف جانے والی سڑک پر چلتے نظر آتے ہیں۔ ان کے چہروں پر اطمینان کی سی کیفیت ہے۔ گزشتہ بہتر گھنٹے کے دوران دیکھی جانے والی افراتفری کی کیفیت کا کہیں نام ونشان نہیں جب ہزاروں کی تعداد میں مسلح سپاہی جنوبی اوسیتیا میں تعیناتی سے پہلے گوری کی گلیوں میں نظر آ رہے تھے۔ اب ان ایمبولنسوں کے سائرن بھی خاموش ہیں جو لڑائی اور بمباری سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو مسلسل ہسپتالوں میں پہنچاتی رہی ہیں۔ لیکن کسی کو معلوم نہیں ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ روسی سکیورٹی اہلکار کے اس بیان کے بعد کے جورجیا کی فوجیں روسی دستوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے گوری میں سینہ سپر ہوں گے، ابھی بھی آبادی کے درمیان بڑی تعداد میں افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ لیکن گوری سے جنوبی اوسیتیا کی طرف جانے والی سڑک پر چند کلو میٹر ڈرائیو کرتے ہوئے ماحول اچانک تبدیل ہو جاتا ہے۔ سڑک پر جا بجا فوجی، ٹرک اور دیگر فوجی سازوسامان نظر آتا ہے جو گزشتہ رات ہی جنوبی اوسیتیا کے جنگی علاقے سے واپس لایا گیا ہے۔ ہم نے سڑک کے کنارے آرام کرتے ہوئے فوجیوں کے ایک گروپ سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن ان کا کمانڈر غیر ملکی صحافیوں کے ایک کی وہاں آمد پر سیخ پا ہو گیا اور اس نے نہ صرف ہمیں برا بھلا کہا بلکہ ہمیں وہاں ریکارڈنگ کرنے سے بھی روک دیا۔ یہ شاید اس بات کا اشارہ تھا کہ اوسیتیا کے دارالحکومت کا کنٹرول حاصل کرنے میں ناکامی پر جورجیا کی فوج کا مورال بہت پست ہے۔ اوسیتیا کے دارالحکومت میں مختصر مگر گھمسان کی جنگ ہوئی جس میں جورجیا کی فوج روسی فوج کا مقابلہ نہ کر سکی جس کا شہر پر اب مکمل کنٹرول ہے۔ سنیچر کے برعکس جب جورجیا کی فوج نے ہمیں جنوبی اوسیتیا جانے سے روک دیا تھا، اتوار کو ہم آگے بڑھتے بڑھتے مرکزی چوک تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس چوک پر اب روسی فوجی تعینات تھے جو سرکاری طور پر امن فوج ہیں۔ اس بات پر کسی کو حیرانگی نہیں ہوئے کہ وہ نسبتاً زیادہ پرسکون اور بات کرنے پر آمادہ تھے۔ انہوں نے ہمیں وہاں فلمبندی کی بھی اجازت دی۔ انہوں نے ہمیں خوشی خوشی بتایا کہ انہوں نے جورجیا کی فوج دستوں کو وہاں سے واپس جاتے دیکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوے فیصد ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں واپس جا چکی ہیں۔ لیکن سرحد پر جاکر یہ بات واضح ہوئی کہ جورجیا کی فوج کی واپسی سے بھی لڑائی ختم نہیں ہوئی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اب بھی جورجیا کی فوج کے کچھ یونٹ جنوبی اوسیتیا میں روسیوں سے لڑ رہے ہیں۔ ہم نے توپخانے گولہ باری کی آواز سنی اور گولوں کو چیک پوائنٹ سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر گرتے دیکھا۔ وہاں ہم نے دیکھا کہ فائرنگ کا شدید تبادلے ہو رہا ہے جس میں مارٹر گولوں کا استعمال ہو رہا ہے جبکہ روسی جنگی طیارے اپنے اہداف کی تلاش میں پرواز کر رہے تھے۔ جب میں جورجیا کے دیہات سے گزر کر گوری کی طرف واپس جارہے تھے تو ہم نے دیکھا کہ لوگ ابھی بھی علاقہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ جورجیا کی فوج کے واپسی سے بھی ان لوگوں کے اضطراب میں کوئی کمی نہیں آئی جس سے وہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک مبتلا ہیں۔ ٹریکٹر پر سوار ہو کر وہاں سے جاتا ہوا ایک شخص اس بات پر سخت غصے میں تھا کہ اس کی حکومت نے جنوبی اوسیتیا سے فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ ان کو بچائے۔ تاہم اس کی امید دور دور تک نظر نہیں آ رہی۔ | اسی بارے میں جورجیا اور اوسیٹیا مسئلہ ہے کیا؟09 August, 2008 | آس پاس اوسیٹیا: مسئلے کا حل آسان نہیں09 August, 2008 | آس پاس ’جورجیا کاہوائی اڈہ، روسی بمباری‘ 10 August, 2008 | آس پاس روس پر ’دراندازی‘ اور بمباری کا الزام10 August, 2008 | آس پاس جورجیا کی بحری ناکہ بندی10 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||