’جورجیا کاہوائی اڈہ، روسی بمباری‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جورجیا نے کہا ہے کہ روسی طیاروں نے ملک کے دارالحکومت تبلیسی کے مضافات میں اس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بمباری کی ہے۔ روس کی وزارت دفاع نے ان الزامات کو بے بنیاد اور اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ تاہم روس نے کہا کہ جورجیا کی طرف سے جنوبی اوسیٹیا میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود لڑائی جاری ہے۔ جورجیا کی وزارت داخلہ نے کہا کہ روسی طیاروں نے جنگی جہاز بنانے کی ایک فیکٹری اور ایک فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔ روس نے جورجیا کے ساتھ جنگ بندی سے پہلے اس کے جنوبی اوسیٹیا سے مکمل انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری طرف روس کے جنگی بحری جہازوں نے بحیرہ اسود کے ساحل پر جورجیا کی بندرگاہوں کا محاصرہ کر لیا ہے جہاں سے گندم اور تیل کی درآمدات کو روکا جا رہا ہے۔ روس نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ تیل کی ترسیل میں خلل ڈالنا چاہتا ہے تاہم اس نے کہا کہ وہ اس بات کا اختیار رکھتا ہے کہ کسی بھی جہاز کو روک کر اس کی تلاشی لی جائے۔ یوکرین نے دھمکی دی ہے کہ وہ روس کے جنگی جہازوں کو سیواستوپول کی بندگارہ میں نہیں آنے نہیں دیں گے۔ بحریہ اسود میں یہ بندگارہ یوکرین اور روس کی فوجیں مشترکہ طور پر استعمال کرتی ہیں۔ جورجیا کے ایک اعلیٰ اہلکار شوتا اوتیشاولی نے کہا ہے کہ جنوبی اوسیٹیا کا مرکزی شہر شیخنوالی اب مکمل طور پر روسی فوجوں کے قبضے میں ہے۔ جورجیا نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اسے فوجی شکست کا سامنا ہے۔ اس نے کہا کہ جنوبی اوسیٹیا سے شہری اور فوجی جانی نقصان سے بچنے کے لیے نکالا گیا ہے۔ اس نے کہا کہ جورجیا کو اب بڑے انسانی بحران کا سامنا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ جورجیا کے ایک سو فوجی ہلاک جب کہ بہت سے زخمی ہو گئے ہیں۔ جورجیا پر روسی حملہ جورجیا کی طرف سے جنوبی اوسیٹیا پر ایک ہفتے قبل چڑھائی کے جواب میں کیا گیا تھا۔جورجیا نے کہا ہے کہ روس نے دس ہزار مزید فوجی سرحد پار سے علاقے میں پہنچا دیئے ہیں۔ جورجیا نے الزام لگایا ہے کہ روس نے اس کے دارالحکومت تبلیسی کے قریب واقع فوجی ہوائی اڈے پر بمباری کی ہے۔
اس رپورٹ کے آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم تبلیسی میں موجود بی بی سی کی گیبریل گیٹ ہاؤس نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے کم و بیش اسی وقت زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔ جورجیا کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائرز الیگزینڈر لومیا کا کہنا ہے کہ حملے کا مقصد فوجی ائیرپورٹ کے رن وے کو نقصان پہنچانا تھا۔ قبل ازیں جورجیا کے صدر میخائل شیخوالی نے فوری طور پر جنگ بندی کے لیے یہ کہتے ہوئے زور دیا تھا کہ مسلح کشیدگی ان کے ملک میں جمہوریت کو ختم کر سکتی ہے۔ جورجیا اور جنوبی اوسیٹیا کی طرف سے کہا گیا تھا کہ ان کی طرف ہلاکتوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار کے قریب ہے۔ ماسکو کے مطابق اس میں بہت کم شہری شامل ہیں۔ روس کے وزیر اعظم ولادی میر پوتن نے جورجیا میں براہ راست روس کی طرف سے فوجی مداخلت کا دفاع کرتے ہوئے جورجیا پر جنوبی اوسیٹیا کے لوگوں کی نسل کشی کا الزام لگایا تھا۔ سنیچر کو روس کے وزیر اعظم نے جنوبی اوسیٹیا کی سرحد کے قریب واقع ایک چھوٹے سے قبضے کا دورہ کیا جہاں جنوبی اوسیٹیا کے لوگ بڑی تعداد میں پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران کے حل کے بعد جنوبی اوسیٹیا میں کبھی بھی جورجیا کے ساتھ نہیں رہ سکے گا۔انہوں نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے چونتیس ہزار لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق چوبیس ہزار لوگ جنوبی اوسیٹیا کو چھوڑنے پر مبجور ہوئے ہیں جبکہ جورجیا کے دوسرے حصوں سے چار سے پانچ ہزار لوگوں نے سرحد پار کرکے روس میں پناہ لی ہے۔ |
اسی بارے میں جورجیا لڑائی شدت اختیار کر گئی 09 August, 2008 | آس پاس جورجیامیں روسی فضائی حملے09 August, 2008 | آس پاس جورجیا اور اوسیٹیا مسئلہ ہے کیا؟09 August, 2008 | آس پاس اولمپک وینیو، تبتیوں کا احتجاج09 August, 2008 | آس پاس اوسیٹیا: مسئلے کا حل آسان نہیں09 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||