اولمپک وینیو، تبتیوں کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیجنگ اولمپکس کی افتتاحی تقریب کے دوران تبت حامی ایک طالبہ نے جب تبت کا پرچم لہرانے کی کوشش کی تو اہلکاروں نے اسے تقریب سے ہٹا دیا۔ طالبہ کا نام کرسٹینا چان ہے اور انہوں نے افتتاحی تقریب کے دوران کینیڈا کے جھنڈے کے اندر تبت کا جھنڈا چھپا رکھا تھا لیکن جیسے ہی انہوں نے اس جھنڈے کو نکالر لہرانے کی کوشش کی اہلکاروں نے انہیں دبوچ لیا۔ اس کے علاوہ لندن اور برسلز میں چینی سفارتخانوں کے سامنے بھی جمعہ کو تبت حامی افراد نے مظاہرے کیے جبکہ ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں بھی تبتیوں نے مظاہرے کیے۔ کرسٹینا چان نے اس سے قبل مئي میں بھی اولمپکس مشعل ریلے کے دوران ہانگ کانگ میں احتجاج کیا تھا۔ اہلکاروں نے پہلے انہیں تقریب کے مقام سے جانے کے لیے کہا لیکن کرسٹینا نے ایسا کرنے سے انکار کردیا، بعد میں انہیں ایک اور احتجاجی کے ساتھ باہر کردیا گیا۔ جمعہ کو چین کے صدر ہو جن تاؤ کے اعلان کے بعد انتیسویں اولمپک کھیلوں کا باقاعدہ آغاز ہوا ہے۔ بیجنگ میں ہونے والے ان اولمپک مقابلوں میں تقریباً دو سو ممالک کے ایتھلیٹ حصہ لے رہے ہیں۔ کھیلوں کے مقام پر سیکورٹی سخت ہے اور کسی بھی طرح کی چین مخالف احتجاج سے نمٹنے کے لیے بڑی تعداد میں سیکورٹی دستے موجود ہیں۔ اور تین امریکی تیتبی حامی نواز احتجایوں کو بھی گرفتار کر کیا گيا۔ گزشتہ دس مارچ کو تبت کے لہاسہ شہر میں کشیدگی پیدا ہونے کے بعد چین کے خلاف غیر ممالک ميں بھی مسلسل مظاہرے ہو رہے ہيں۔ |
اسی بارے میں ’چین مخالف مظاہرہ کی اجازت نہیں‘03 April, 2008 | انڈیا دلی میں مشعل کی سخت سکیورٹی 17 April, 2008 | انڈیا انڈیا: اولمپک مشعل ریلے ختم 17 April, 2008 | انڈیا تبتی مظاہرین عدالتی تحویل میں 14 March, 2008 | انڈیا اولمپک مشعل: تبتیوں کا احتجاج17 April, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||