اولمپک مشعل: تبتیوں کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے دارالحکومت دلی میں بیجنگ اولمپکس مشعل ریلی سے قبل سینکڑوں تبتیوں سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنان نے تبت میں چین کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف پر امن مارچ کیا ہے۔ یہ مارچ مہاتما گاندھی کی سمادھی ’راج گھاٹ‘ سے جنتر منتر تک نکلا گیا۔ تقریباً سات کلو میٹر کے اس مارچ کے دوران سخت سکیورٹی انتظامات کئےگئے تھے۔ مارچ میں شریک ہونے والے تبت کے خلاف اور تبت کی آزادی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ مارچ میں شریک ایک احتجاجی تانگ سین نے مارچ کے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے کہا ’ ہم بیجنگ میں اولمپکس کے انعقاد کے خلاف نہیں ہیں اور پرامن مارچ کر کے دنیا کی توجہ تبت میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں تاکہ ہم تبتی پر امن فضا میں رہ سکیں۔‘ اس مارچ کی ایک اہم رہمنا ڈول مرچری کا کہنا تھا کہ وہ اس لیے مارچ کر رہی ہیں تاکہ چین کی حکومت تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ سے تبت کی آزادی سے متعلق مذاکرات کرے اور تبت میں چینی حکومت کےمظالم کا خاتمہ ہوسکے۔ مرچری کا مزید کہنا تھا ’یہ ایک مناسب موقع ہے، ہم اولمپکس کی مخالف نہیں لیکن ہم اس اولمپکس کے میزبانوں کے ضرور مخالف ہیں۔‘ تبت کی حمایت میں شریک ایک رضاکار تنظیم ’اہنشا ٹرسٹ ‘ کے شانتم سیٹھ کا کہنا تھا کہ ہماری تہذیب اور ثقافت تبت سے جڑی ہوئی ہے۔ تبت کی سکیورٹی ہندوستانی کی سلامتی سے وابستہ ہے۔ جیسے دلائی لامہ کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ ’ زون آف پیس‘ ہونا چاہیے اور ہم بھی یہی چاہتے ہیں، اس لیے ہم سب اس مارچ میں شریک ہوئے ہیں۔
مارچ میں شریک ایک اور احتجاجی مسر کیلسن سے جب یہ پوچھا گیا کہ اس مارچ کے لیے مہاتما گاندھی کی سمادھی کا انتخاب کیوں کیا گیا تو ان کا کہنا تھا ’جس طرح مہاتماگاندھی کی سمادھی پر امن اور عدم تشدد کی ایک مشعل جل رہی اسی طرح ہم چاہتے ہیں کہ بیجنگ اولمپکس امن کے لیے منعقد ہوں۔‘ جواہر لعل نہرو یونیورسیٹی میں سماجیات کے پروفیسر اور بھارت تبت میتری سنگھ کے جنرل سیکریٹری آنند کمار کا کہنا تھا ’ اس مارچ کا مقصد تبت کے درد کو دنیا کے سامنے ظاہر کرنا ہے اور چین پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ دلائی لامہ سے مذاکرت کرے۔‘ ایک تبتی احتجاجی بیکھو بشو بندھو سے جب یہ پوچھا گیا کہ کيا آپ مشعل ریلے سے متعلق ہندوستان کی پالیسی سے خوش ہیں تو ان کا کہنا تھا ’جی ہاں کیوں کہ کم از کم ہندوستان کی حکومت نے چین کے دباؤ کے باوجود ہمیں مارچ کرنے اور ریلی نکالنے کی اجازت دی ۔‘ کھیل اور سیاست کو ایک ساتھ ملانے کے سوال پر ان کا کہنا تھا ’ دونوں کے جذبات الگ ہیں لیکن ہماری آزادی کا معاملہ ہے، اس لیے اس موقع پر چین کی مخالفت صحیح ہے۔‘ واضح رہے کہ ہندوستان میں سب سے زیادہ تبتی رہتے ہیں اور چین کے دباؤ میں ہندوستان نے سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے ہیں تاکہ مشعل ریلے میں کسی قسم کی روکاوٹ نہ ڈالی جا سکے۔ |
اسی بارے میں اولمپک مشعل چینی حکام کےسپرد30 March, 2008 | کھیل اولمپک بائیکاٹ کی اپیل مسترد29 March, 2008 | کھیل اعصام اولمپکس میں شرکت کے خواہشمند29 March, 2008 | کھیل پیرا گوئے نے عراق کو ہرا دیا25 August, 2004 | کھیل اولمپکس سے انڈیا کی مایوسی20 August, 2004 | کھیل اولمپکس اور مسلم خواتین13 August, 2004 | کھیل اولمپکس 2012 لندن میں ہونگے 06 July, 2005 | کھیل سخت سکیورٹی میں اولمپک کا آغاز 13 August, 2004 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||