اولمپک مشعل چینی حکام کےسپرد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایتھنز میں سخت سکیورٹی میں منعقدہ اولمپک مشعل چین کے حوالے کیے جانے کی تقریب میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔ یونان میں چوبیس مارچ کو روشن کی گئی مشعل کے اب بذریعہ ہوائی جہاز بیجنگ لے جائی جائے گی جہاں اس کا خیر مقدم سوموار کو تیانامن سکوائر میں کیا جائے گا۔ یہ مشعل بعد میں بیس ممالک کا چکر لگا کر اولمپکس کے افتتاحی دن آٹھ اگست کو واپس چین پہنچے گی۔ یونان کے حکام نے مشعل کا راستہ پچھلے چند روز میں تبدیل کیا ہے تا کہ مظاہرین اس کے سفر میں خلل نہ ڈال سکیں۔ یونانی اولمپک کمیٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مشعل کا راستہ مختصر کر دیا گیا ہے اور ’یہ مشعل اب ایتھنز کے وسط میں تھوڑا سفر طے کرے گی اور اس کو چینی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔‘ مشعل کی حوالگی کے موقع پر پولیس نے متنبہ کیا ہے کہ وہ ایسے تمام بینرز، پوسٹرز اور کوئی بھی ایسی چیز جو کہ کسی پر پھینکی جا سکتی ہے ضبط کر لیں گے اور احتجاج کرتے ہوئے شخص کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ یہ اقدمات اولمپیا میں تبت کے حامی افراد کے پولیس کا محاصرہ توڑ کر مشعل روشن کرنے کی تقریب میں خلل ڈالنے کی کوشش کے بعد کیے گئے ہیں۔ دوسری طرف دہلی میں تبت کے جلا وطن شہریوں نے چین کے خلاف احتجاج میں ’آزاد مشعل‘ کا انعقاد کیا ہے جو کہ پوری دنیا کا چکر کاٹے گی۔ تاہم تبت میں حالیہ جھگڑوں کے بعد عالمی سطح پر اولمپکس کے بائیکاٹ کی مہم نہ ہونے کے برابر ہے اور اب تک صرف فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تمام آپشنز کھلی ہیں۔ | اسی بارے میں بیرونی سفارتکاروں کا دورۂ تبت29 March, 2008 | آس پاس ’تبت میں80 مظاہرین ہلاک‘16 March, 2008 | آس پاس بھارت میں سو تبتی مہاجرین گرفتار13 March, 2008 | آس پاس ویزہ کی مدت میں کمی کی تجویز 18 December, 2007 | آس پاس 13 ایتھلیٹس کی لاشیں برآمد17 June, 2007 | آس پاس چین میں ’مزدوروں کا استحصال‘ 11 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||