بیرونی سفارتکاروں کا دورۂ تبت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تبت میں حالیہ پرتشدد جھڑپوں کے بعد پہلی بار چین کی دعوت پر غیر ملکی سفارتکاروں کے ایک وفد نے تبت کا دورہ کیا ہے۔ برطانیہ، فرانس اور امریکہ سمیت پندرہ ممالک کے سفارتکار تبت کے شہر لاسہ کے ایک روزہ دورے پر ہیں۔ سترہ سفارتکاروں کا یہ وفد جس میں جاپان اور آسٹریلیا کے سفارتکار بھی شامل ہیں بیجنگ سے سنیچر کے روز لاسہ پہنچا۔یہ وفد تبت کے شہر لاسہ کے حالات کا جائزہ لے گا۔ امریکہ نے چین کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ان لوگوں کو لاسہ کے نواحی علاقوں کا دورہ کرنے کی بھی اجازت دی جائے۔ امریکی وزرات خارجہ کے ترجمان شان میکارمک نے اس دورے کے بارے میں کہا تھا’یہ صحیح سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے‘۔ سفارتکاروں کے دورے کے بعد غیر ملکی صحافیوں کا ایک گروپ بھی شہر کا دورہ کرے گا۔
ادھر سنیچر کو ہی دلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جلاوطن تبتی حکومت کے سربراہ اور روحانی پیشوا دلائی لاما نے کہا ہے کہ وہ چین کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ دلائی لاما کا کہنا تھا کہ چین کا الزام ہے کہ تبت کے لوگ احتجاج کے دوران تشدد کا راستہ اختیار کر رہے ہیں لیکن انہیں جو اطلاع موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق چین کے سکیورٹی اہلکار بھکشوؤں کا لباس پہن کر تبتیوں پر تشدد کر رہے ہیں۔ دلائی لاما نے ایک بار پھر یہ بات واضح کی وہ چین میں ہونے والے اولمپکس کے مخالف نہیں ہیں اور نہ وہ کسی ملک سے اولمپکس کی مخالفت کرنے کو کہیں گے۔ یاد رہے کہ ہندوستان میں پناہ گزين تبت کی جلاوطن حکومت نے کہا تھا کہ چینی سکیورٹی فورسز کی جانب سے تشدد کے واقعات میں 140 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ بعض ہلاکتوں کا تو انہیں ابھی پتہ بھی نہیں چل سکا کیونکہ چین کی حکومت نے بیرونی میڈیا پر پابندی عائد کررکھی ہے۔ اس کے برعکس چین کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں صرف 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں ’تبت میں80 مظاہرین ہلاک‘16 March, 2008 | آس پاس تبت:فسادیوں کو پیر تک کی مہلت15 March, 2008 | آس پاس تبت میں چین مخالف احتجاج14 March, 2008 | آس پاس بھارت میں سو تبتی مہاجرین گرفتار13 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||