’تبت میں80 مظاہرین ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تبت کی جلاوطن حکومت نے دعوٰی کیا ہے کہ چین کےخلاف مظاہرہ کرنےوالے اسی مظاہرین کو ہلاک کر دیاگیا۔ تبت کی جلاوطن حکومت نے کہا ہے کہ انہوں نے مظاہروں میں ہلاک کیے جانے والے اشخاص کی تعداد کو کئی ذرائع سے تصدیق کی ہے۔ چین کی حکومت نے دس مظاہرین کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ادھر بدھ مت کے روحانی رہنما دلائی لامہ کا کہنا ہے کہ اگر بیجنگ نے چین کے زیر کنٹرول خطے کے تئیں اپنی پالیسیں تبدیل نہیں کیں تو تبت میں مزید ہلاکتیں ہونے کا خدشہ ہے۔ دلائی لامہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کہ جمعہ کو لاہسا میں ہونے والے پر تشدد مظاہرے کے بعد سے انہیں’ بہت تشویش‘ ہوئی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اس سال اولمپکس کرانے کے بیجنگ کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں۔ تبت کے اہم شہر لاہسا میں زبردست چینی سکیورٹی کی موجودگی میں آج خاموشی رہی۔ تمام کاروبار بند ہیں اور سڑکیں سنسان ہیں۔ امریکی وزیرخارجہ کونڈو لیزا رائس نے سنیچر کو چین سے اپیل کی ہے کہ وہ مظاہروں سے نپٹنے میں ’احتیاط‘ سے کام لے۔ یاد رہے کہ یہ احتجاجی مظاہرے اس وقت شروع ہوئے تھے جب چینی اقتدار کے خلاف ناکام تبتی بغاوت کی انچاسویں سالگرہ کے موقع پر جلوس نکالتے ہوئے کچھ بدھ بھکشوؤں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان کی رہائی کے لیے سینکڑوں بھکشوؤں نے احتجاجی مظاہرے کیے اور اطلاعات کے مطابق انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ اس کے بعد گزشتہ ہفتے بھر سے شہر میں احتجاجی ریلیاں منعقد کی جا رہی ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ چین کے بیس سالہ دور اقتدار میں پہلے کبھی تبت میں اتنے بڑے پیمانے پر احتجاج نہیں ہوا۔ |
اسی بارے میں تبت میں چین مخالف احتجاج14 March, 2008 | آس پاس بھارت میں سو تبتی مہاجرین گرفتار13 March, 2008 | آس پاس دلائی لامہ کواعزاز، چین کی تنقید18 October, 2007 | آس پاس تبت میں ماؤ کا عظیم مجسمہ17 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||