تبت میں چین مخالف احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تبت کے شہر لاہسا میں بدھ بھکشوؤں کے احتجاج میں شدت کے ساتھ ساتھ شہر کے کچھ حصوں سے آتش زنی اور فسادات کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ ایک عینی شاہدنے بی بی سی کو بتایا کہ لوگوں کے بڑے بڑے گروہ سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں، دکانوں اور چین سے تعلق رکھنے والی ہر چیز کو آگ لگا رہے ہیں۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں واقع امریکی سفارت خانے کے مطابق لاہسا میں موجود کچھ امریکی شہریوں نے گولیوں کی آواز سننے کی بھی اطلاعات دی ہیں۔ ہفتے بھر سے شہر میں احتجاجی ریلیاں منعقد جا رہی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ چین کے بیس سالہ دور اقتدار میں پہلے کبھی تبت میں اتنے بڑے پیمانے پر احتجاج نہیں ہوا۔ بی بی سی سے بات کرنے والے عینی شاہدین کے مطابق شہر پر دھویں کے بادل ہیں۔ امریکہ میں مقیم تنظیم آئی سی ٹی یعنی ’انٹرنیشنل کمپین فار تبت‘ کے مطابق جمعہ کو کم از کم پولیس کی ایک گاڑی کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ آئی سی ٹی کی ترجمان کیٹ سانڈرز نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق بارکور سٹریٹ پر واقع رامسیکھانگ بازار یا تو جل رہا یا پھر راکھ ہو چکا ہے۔ کیٹ سانڈرز نے کہا، ’بظاہر اب احتجاجی مظاہروں میں عام لوگ بھی شریک ہو رہے ہیں۔‘ ایک اور عینی شاہد کے مطابق بدھ کو سیکیورٹی افواج اور بھکشوؤں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن میں کئی بھکشوؤں کو مارا پیٹا گیا۔ اس عینی شاہد کے مطابق تقریباً تین سو بھکشوؤں نے سیرا بدھ عبادت گاہ سے جلوس کی شکل میں نکلنے کی کوشش کی تو سیکیورٹی افواج نے انہیں روکا اور کم از کم ایک بھکشو کو بری طرح پیٹا۔ یہ احتجاجی مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب چینی اقتدار کے خلاف ناکام تبتی بغاوت کی انچاسویں سالگرہ کے موقع پر جلوس نکالتے ہوئے کچھ بدھ بھکشوؤں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان کی رہائی کے لیے سینکڑوں بھکشوؤں نے احتجاجی مظاہرے کیے اور اطلاعات کے مطابق انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے جمعرات کو شہر کی تین مرکزی عبادت گاہوں کو سیل کر دیا تھا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چین کے اس دعوے کے باوجود کہ تبت میں حالات قابو میں ہیں، لاہسا میں چین مخالف مظاہرے مزید شدید ہوتے نظر آتے ہیں۔ بھارت میں مقیم دلائی لاما نے، جو کہ تبت کی جلا وطن حکومت کے سربراہ ہیں، کہا ہے کہ لاسا میں ہونے والے تمام مظارے پرامن تھے۔ انہوں نے چینی حکام کے مبینہ ردعمل پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ چین کا دعوی ہے کہ تبت ہمیشہ چین کا حصہ رہا ہے حالانکہ بیسویں صدی سے پہلے یہ علاقہ طویل عرصوں تک خود مختار رہا ہے اور اب بھی کئی تبتی دلائی لاما کو ہی اپنے ملک کا سیاسی اور روحانی سربراہ تصور کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں بھارت میں سو تبتی مہاجرین گرفتار13 March, 2008 | آس پاس دلائی لامہ کواعزاز، چین کی تنقید18 October, 2007 | آس پاس تبت میں ماؤ کا عظیم مجسمہ17 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||