بھارت میں سو تبتی مہاجرین گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی پولیس نے چین میں اولمپکس کے انعقاد کے خلاف چینی بارڈر کی طرف مارچ کرنے والے تقریباً ایک سو سے زائد تبت سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کو دھرمشالہ شہر سے اکتیس میل پہلے دہرہ پل کے قریب گرفتار کیا گیا۔ واضح رہے کہ دھرمشالہ سے دلائی لاما جلاوطنی میں تبت حکومت چلا رہے ہیں۔ عالمی آزادی کی تحریک کے حوالے سے یہ مارچ سوموار کو شروع کی گئی تھی۔ یہ مارچ انچاس سال قبل دلائی لاما کی چین میں ناکام بغاوت اور وہاں سے فرار ہونے سے مماثلت رکھتی ہے۔ بھارتی پولیس اہلکار اتل فلزلے نے کہا ’ہم نے سو افراد کو گرفتار کیا ہے۔‘ مہاجرین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اپنی مارچ بھارتی وقت کے مطابق ساڑھے پانچ بجے شروع کی۔ ’تقریباً ساڑھے چھ بجے پولیس نے دہرہ پل پر ہمارا راستہ روکا اور گرفتاریاں کیں۔ پولیس نے سب سے پہلےتبت کے معروف کارکن تینزن کو گرفتار کیا۔‘ اس مارچ میں شامل افراد سڑک پر بیٹھ گئے اور دعا پڑھنی شروع کر دیں۔ مظاہرین کے ایک رہنماء نے کہا ہے کہ ہمارا مقصد نیک ہے اور ہم تشدد پر یقین نہیں رکھتے۔’یہ گرفتاریاں ہمیں ہمارے مقصد سے نہیں ہٹا سکتے اور ہماری کوشش جاری رہے گی۔‘ بھارتی پولیس نے دہلی میں ان کو مارچ کرنے کے خلاف نوٹس دیا تھا۔لیکن مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد تبت میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔ بھارت ماضی میں اس قسم کے مظاہروں کو نہیں روکتا تھا لیکن کچھ سالوں سےاس نے ان مظاہروں کو روکنا شروع کردیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چین کی طرف یہ مارچ بھارتی حکومت اور جلا وطنی میں تبت حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ چین میں اولمپکس کے انعقاد کے قریب عالمی آزادی تحریک شروع کی گئی ہے۔ اور اسی سلسلے میں سوموار کو نیپال میںتقریباً ہزار افراد نے مظاہرہ کیا تھا۔ | اسی بارے میں دلائی لامہ کواعزاز، چین کی تنقید18 October, 2007 | آس پاس ’شاندار‘ بدھا کی دریافت05 May, 2007 | آس پاس تبت میں ماؤ کا عظیم مجسمہ17 April, 2006 | آس پاس چین عوام کو آزادی فراہم کرے: بش20 April, 2006 | آس پاس چین: پہلا عالمی بدھ مت فورم 13 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||