تبت:فسادیوں کو پیر تک کی مہلت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تبت میں چینی حکام نےفسادیوں کو پرتشدد کارورائیاں ختم کر کے خود کو حکام کے حوالے کرنے کے لیے پیر تک کی مہلت دی ہے۔ حکام کے مطابق اب تک ہونے والی پر تشدد کارروائیوں میں دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ لاہسا میں موجود ایک برطانوی صحافی جیمز مائلز کا کہنا ہے کہ شہر میں لوٹ مار اور فسادات کا سلسلہ سنیچر کو بھی جاری ہے تاہم اس کی شدت میں جمعہ کی نسبت کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق اب مشتعل افراد بچی کچھی دکانوں کو لوٹنے اور وقتاً فوقتاً آنسو گیس پھینکتی سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کرنے میں مصروف ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جمعہ کو شہر کے جن حصوں کی بجلی اور ٹیلیفون سروس منقطع کر دی گئی تھی وہ بھی بحال ہو گئی ہے۔ چینی خبر رساں ادارے ’زن ہوا‘ کے مطابق تبت میں حکام نے فسادیوں سے کہا ہے کہ خود کو قانون کے حوالے کر دینے والے افراد سے نرم برتاؤ کیا جائے گا۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ممکنہ گڑبڑ سے نمٹنے کے لیے بھی تیار ہیں اور بقول ان کے ’علیحدگی پسندوں کا منصوبہ‘ ناکام بنا دیا جائے گا۔ حکام نے ان اطلاعات کی بھی تردید کی ہے کہ پولیس نے اس ہجوم پر گولی چلائی ہے جو تبت کے مرکزی شہر لاہسا میں چینی باشندوں کی ملکیتی دکانوں کو نذرِ آتش کر رہا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں سے زیادہ تر کاروباری حضرات تھے اور ان’معصوم شہریوں‘ کو ’جلا دیا گیا‘۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس نے لاہسا شہر کے کچھ حصوں کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے اور وہ فسادیوں کی تلاش میں ہے جبکہ عینی شاہدین نے شہر کی سڑکوں پر ٹینکوں کی موجودگی کی بھی تصدیق کی ہے۔ یاد رہے کہ یہ احتجاجی مظاہرے اس وقت شروع ہوئے تھے جب چینی اقتدار کے خلاف ناکام تبتی بغاوت کی انچاسویں سالگرہ کے موقع پر جلوس نکالتے ہوئے کچھ بدھ بھکشوؤں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان کی رہائی کے لیے سینکڑوں بھکشوؤں نے احتجاجی مظاہرے کیے اور اطلاعات کے مطابق انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ اس کے بعد گزشتہ ہفتے بھر سے شہر میں احتجاجی ریلیاں منعقد جا رہی ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ چین کے بیس سالہ دور اقتدار میں پہلے کبھی تبت میں اتنے بڑے پیمانے پر احتجاج نہیں ہوا۔ چین کا دعوٰی ہے کہ تبت ہمیشہ چین کا حصہ رہا ہے حالانکہ بیسویں صدی سے پہلے یہ علاقہ طویل عرصوں تک خود مختار رہا ہے اور اب بھی کئی تبتی دلائی لاما کو ہی اپنے ملک کا سیاسی اور روحانی سربراہ تصور کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں تبت میں چین مخالف احتجاج14 March, 2008 | آس پاس بھارت میں سو تبتی مہاجرین گرفتار13 March, 2008 | آس پاس دلائی لامہ کواعزاز، چین کی تنقید18 October, 2007 | آس پاس تبت میں ماؤ کا عظیم مجسمہ17 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||