ویزہ کی مدت میں کمی کی تجویز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی حکومت سیاحتی ویزہ کی مدت چھ مہینے سے کم کر کے تین مہینے کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ان تجاویز کے تحت سیاحتی ویزہ کوسپانر کرنے والے خاندان کو ایک مخصوص رقم جمع کرانی ہوگی جو ان کو اس صورت میں واپس مل جائے گی جب سیاحت کے لیے آنے والا شخص تین مہینے کی مدت کے اندر برطانیہ سے واپس چلا جائےگا۔ امیگریشن کے وزیر لیم بائرن نے کہا ہے کہ سیاحتی ویزہ اور اس سے متعلق دیگر اقدامات کا مقصد خطرناک لوگوں کو برطانیہ سے باہر رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تجاویز کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور یہ ابھی مشاورتی مرحلے پر ہیں۔ لوگوں نے امیگریشن قوانین میں تبدیلی کی تجاویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سپانسر کرنے والی فیملی کے لیے ایک مخصوص رقم جمع کرانا غریب خاندانوں کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ حکومت نے ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ سپانسر کرنے والے خاندان کو کتنی رقم جمع کرانی پڑے گی لیکن بعض اخباری اطلاعات کے مطابق سپانسر کو ایک ہزار پونڈ جمع کرانے ہوں گے جو ان کو وزٹر کی واپسی کے بعد واپس مل جائیں گے۔ سیاحتی ویزہ کےعلاوہ لندن اولمپک جیسے مواقعوں پر خصوصی ویزہ جاری کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ برطانوی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں ہر سال آنے والے سیاحوں میں صرف 1.1 فیصد سیاح تین مہینوں سے زیادہ برطانیہ میں قیام کرتے ہیں۔ برطانوی حکومت نے دنیا بھر میں برطانوی ویزہ کی درخواست دینے والے اشخاص کے فنگر پرنٹس حاصل کرنے شروع کر رکھے ہیں۔ امیگریشن وزیر نے کہا کہ ویزہ کی درخواست دینے والے لوگوں کے فنگر پرنٹس لینے کا مقصد خطرناک لوگوں کو برطانیہ سے دور رکھنا مقصود ہے۔ برطانوی امیگریشن وزیر نے کہا کہ اگلے موسم بہار سے برطانیہ کے ویزے کے لیے درخواست دینے والے ہر شخص کے فنگر پرنٹس چیک کیےجائیں گے۔ | اسی بارے میں برطانوی ویزہ کے لیے نئی شرائط02 March, 2007 | پاکستان ویزہ سکینڈل کی سوئس تفتیش09 May, 2006 | پاکستان ’ویزہ لینے کے لیئے کشمیری ظاہر کیا‘20 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||