برطانوی ویزہ کے لیے نئی شرائط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ویزے کے حصول کے لیے دو نئی شرائط کا اعلان کیا ہے۔ ویزے کے امیدواروں کو اب ٹی بی کی بیماری کے ٹیسٹ کے علاوہ انگلیوں کے نشانات دینا بھی لازمی ہو گا۔ ان شرائط کا اعلان اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن نے جمعے کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کیا ہے۔ ان شرائط کے مطابق پاکستان سے برطانیہ سفر کے مقصد سے ویزے کے لیے جس ملک کا بھی شہری درخواست دیتا ہے اس کے لیے بائیو میٹرک فنگر پرنٹس دینا ضروری ہوگا۔ اس کے علاوہ درخواست کندہ کو ٹی بی کا ٹیسٹ بھی کروانا لازمی ہوگا۔ بیان کے مطابق انگلیوں کے نشانات کا نظام دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں پہلے سے رائج ہے جن میں سری لنکا، ایتھوپیا اور ہالینڈ شامل ہیں۔ برطانیہ جنوری دو ہزار آٹھ تک تمام ممالک، جن کے شہریوں کے لیے ویزہ لازمی ہے، یہ نظام متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس نظام کے تحت اپنی شاخت تبدیل کرکے، غیرقانونی طور پر یا کسی اور کی دستاویزات پر سفر ناممکن ہوجائے گا۔ برطانوی حکام امید کر رہے ہیں کہ اس سے ان کے ملک سفر کرنے والوں کا تحفظ بھی ممکن ہوسکے گا۔ مستقبل میں اس سے برطانیہ میں داخل ہونے کے نظام کے لیے ہوائی اڈوں پر نصب کیے جانے والے جدید الیکٹرانک گیٹس کے ذریعے گزرنا بھی آسان ہو جائے گا۔
حکام کو امید ہے کہ اس نئے نظام سے غیرقانونی تارکین وطن کو روکنے میں مدد ملے گی۔ برطانوی ہائی کمیشن پہلے ہی پاکستان میں ذرائع ابلاغ میں اشتہارات کے ذریعے عوام کو غیرقانونی طور پر بیرون ملک بجھوانے والوں سے محتاط رہنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔ برطانیہ میں چھ ماہ سے زیادہ مدت کے لیے جانے والوں کو اب ویزے سے قبل انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن یعنی آئی او ایم کے زیر انتظام چلنے والے کلینک سے ٹی بی ٹیسٹ کروانا ہوگا۔ ٹی بی سے پاک قرار دیے جانے والے امیدوار ویزے کے لیے درخواست جمع کروا سکیں گے لیکن اس بیماری کے شکار افراد کو پہلے علاج کے لیے کہا جائے گا۔ آئی او ایم اس ٹیسٹ اور سرٹیفیکیٹ کے لیے فیس بھی وصول کرے گی اور یہ سرٹیفیکیٹ چھ ماہ کے لیے کارآمد ہوگا۔ ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ برطانیہ خود اپنے ملک میں ٹی بی کے بڑھتے ہوئے چیلنج سے دوچار ہے۔ یہ نئی شرط اس بیماری سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر قابو پانے میں مدد دے گی۔ البتہ پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ ان نئی شرائط سے عام آدمی کے لیے ویزے کا حصول مزید مشکل ہو جائے گا۔ | اسی بارے میں برطانیہ میں پاکستانی پریشان 09 October, 2005 | پاکستان پاک بھارت ’سیاحتی گروپ ویزا‘20 January, 2007 | پاکستان ویزا سکینڈل: تمام سفارتی عملہ واپس18 May, 2006 | پاکستان پاکستان میں سوئس ویزا آفس بند06 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||