انڈیا: اولمپک مشعل ریلے ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے دارالحکومت دلی میں راشٹر پتی بھون یعنی ایوان صدر سے انڈيا گیٹ تک اولمپکس مشعل کی ریلے خوش اصلوبی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی ہے۔ چین اور ہندوستان کے نمائندوں اور سکیورٹی کمانڈوں کے دستوں کے درمیان ہندوستانی ایتھلیٹ اور ملک کی اہم شخصیات مشعل کو لیکر دوڑے۔ ان میں کھلاڑی پی ٹی اوشا، ملکھا سنگھ ، لینڈر پیس، مہیش بھپتی اور انجو بابی جارج جیسے کئي نامور کھلاڑی شامل تھے۔ اس کے علاوہ مشعل ریلے میں اداکار عامر خان اور سیف علی خان بھی تھے۔ اولمپکس مشعل ریلے کے پیش نظر دلی میں سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے۔ مبصرین کا خیال میں اس طرح کی غیر معمولی سکیورٹی یوم جمہوریہ کی تقریب کے دوران بھی نہیں کی جاتی۔ انڈيا گیٹ اور اس کے نزدیکی علاقوں کی مکمل طور سے قلعہ بندی کی گئی تھی اور سکیورٹی فورسیز کے ہزاروں اضافی جوان تعینات کئے گئے تھے۔ راشٹر پتی بھون سے انڈيا گیٹ تک راج پتھ پر اولمپکس مشعل ریلے کے وقت کسی بھی عام شخص کو اس علاقے میں جانے کی اجازت نہيں تھی۔ یہاں تک کہ میڈیا کے نمائندوں کو بھی ریلے کے راستے پر دوڑنے کی اجازت نہیں تھی۔ اولمپکس مشعل کی ریلے کو براہ راست سرکاری چینل دوردرشن نشر کررہا تھا اور کسی بھی نجی چینلز کو اس تقریب کی نشریات کی اجازت نہیں تھی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل جب سنہ 2004 میں اولمپکس مشعل ہندوستان آئی تھی تو تیس کلو میٹر سے زیادہ کی دوڑ لگائی گئی تھی لیکن اس بار تبتیوں کی مخالفت کے سبب دوڑ کا فاصلہ کم کر صرف دو آعشاریہ تین کلو میٹر تک محدود کردیا گیا تھا۔ دلی میں اولمپکس مشعل دوڑ کے خاتمہ کے بعد مشعل کو بینکاک کے لیے روانہ کردیا گيا ہے اور مشعل کو دلی ہوآئی اڈے پر لے جایا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں اولمپک مشعل: تبتیوں کا احتجاج17 April, 2008 | انڈیا دلی میں مشعل کی سخت سکیورٹی 17 April, 2008 | انڈیا اولمپک مشعل چینی حکام کےسپرد30 March, 2008 | کھیل اولمپک بائیکاٹ کی اپیل مسترد29 March, 2008 | کھیل اعصام اولمپکس میں شرکت کے خواہشمند29 March, 2008 | کھیل پیرا گوئے نے عراق کو ہرا دیا25 August, 2004 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||