BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 August, 2008, 10:35 GMT 15:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوسیٹیا: مسئلے کا حل آسان نہیں

اوسیٹیا میں لڑائی
جارجیا نے الزام عائد کیا ہے کہ روصس اس پر لڑائي مسلط کررہا ہے اور لڑائی کے سبب اس کا کافی نقصان ہوا ہے
جورجیا کے جنوبی اوسیٹیا خطے میں کشیدگی جاری ہے اور یہ لڑائی ایک ایسے وقت شروع ہوئی ہے جب اگست کے مہینے میں وزارتِ خارجہ اور سینیئر اہلکار چھٹی منا رہے ہوتے ہیں۔

اب جونئیر اہلکاروں اور نوجوان افسران کو حملے کی پیچیدگیوں اور حالات سے نمٹنے کے لیے جورجیا کی تاریخ اور روسی آئین کے خاتمے کے بل پر اس کی آزادی کے تصور سے پہلے جو جنگ ہوئی تھی اس کا علم ہونا ضروری ہے اور یہ صرف پرانے لوگوں کو پتہ ہے۔

جنوبی اوسیٹیا جورجیا کے اندر تین خطوں میں سے ایک ہے۔ دو دیگر خطے ابکھازیا اور اجاریا ہیں۔ جورجیا روسی آئین کے مطابق ایک نیم خود مختار خطہ ہے۔

تینوں خطوں میں علیحدگی پسند عناصر نے اپنے اپنے فائدے کے مطابق اپنی وفاداری روس کے تئیں برقرار رکھی اور جورجیا کی حکومت کی جانب سے کسی بھی طرح کے معاہدے، بات چیت کی مخالفت کی۔

جورجیائی حکومت اور علیحدگی پسندوں کے درمیان ماضي میں جو تشدد ہوا اور اس سے دو باتیں واضح ہوگئیں : پہلی تو یہ کہ جورجیا کے پاس علیحدگی پسندوں کو ختم کرنے کے لیے نہ تو فوجی طاقت اور نہ ہی سیاسی عزم موجود تھا اور دوسری یہ کہ علیحدگی پسندوں کی وفاداری نے روس کو یہ شہ دی کہ وہ جورجیا کے معاملات میں دخل اندازی کرنے لگا۔

جورجیا کے شمال میں روس کا ہونا اور اس کے اوپر علیحدگی پسندوں کی حمایت کے سبب صحیح معنوں میں جورجیا کو کبھی بھی مکمل آزادی حاصل نہیں ہو سکی اور علیحدگي پسندوں کے ساتھ اختلاف اور جورجیا کے تئیں روس کے دوہرے رویے نے جورجیا کو ہمیشہ ٹکراؤ کی حالت میں رکھا ہے اور آج بھی وہ ایک مکمل آزاد ملک کے تصور کو یقینی بنانے کی کوشش ہی کر رہا ہے۔

جیسے جیسے روس بورس یلسن کے دور میں ایک ناکام سپر پاور سے ایک مضبوط، سفارتی طور پر طاقت ور، اور دنیا کو توانائی دینا والا اہم ملک بن گیا، جورجیا کی طاقت اور کمزور ہوتی گئی اور روس جورجیا پر حاوی ہوتا گیا۔

اوسیٹیا کی لڑائی
اوسیٹیا اس بات سے باخبر ہےکہ اس لڑائی کا کوئي آسان حل نہيں ہے

امریکہ میں تعلیم یافتہ، انگلش بولنے والے جورجیا کے صدر میخائیل ساکاشولی ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ روس سے بہتر رشتے بنانے کے حامل ہیں۔ لیکن جب بھی انہوں نے علیحدگی پسندوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی تبھی انہیں روس کی تنقید جھیلنی پڑی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جورجیا اور روس کے رشتے تلخ ہی رہے۔

میخائیل ساکاشولی کہتے رہے ہیں کہ جورجیا کے تئیں روس کے دوہرے رویے کی وجہ سے ہی جورجیا میں جرائم اور کرپشن بڑھا ہے لیکن روس ایک خود مختار ملک ہے اور وہ کسی ملک کے ساتھ کیسے بھی رشتے رکھ سکتا ہے۔

جورجیا کے سیاسی حالات کو صرف سویت یونین کی تاریخ سے جوڑ کر ہی نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اسکا بہت کچھ لینا دینا امریکہ کی ان پالیسیوں سے بھی ہے جو اس نے 1990 میں روس جیسی کمیونسٹ سپر پاور کے گرنے کے بعد بنائی تھیں۔

امریکہ نے جورجیا جیسے ممالک سے وعدہ کیا تھا کہ وہ انہیں مغربی ممالک کے کلب کی ممبرشپ دے گا جس کا مطلب تھا کہ وہ نیٹو اور یورپین یونین میں بھی شامل ہو سکتے تھے۔

پولینڈ اور جمہوریہ چیک کے لیے یہ راستہ اپنانا آسان تھا کیونکہ وہ مشرقی یورپ کے صرف نواحی ممالک تھے۔ لتھوانیا، لیٹویا اور اسٹونیا جیسی بلقان ریاستوں کے لیے بھی یہ کرنا ممکن تھا تاہم یہ عمل پولینڈ اور جمہوریہ چیک کی نسبت زیادہ مشکل تھا۔

لتھوانیا، لیٹویا اور اسٹونیا آزاد یورپین ممالک تھے اور انہیں ان کے اتحادیوں کی حمایت بھی حاصل تھی اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ انہوں نے امریکہ کے ساتھ دوستی کا عمل اس وقت شروع کردیا تھا جب روس سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ایک نئی صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کر رہا تھا۔

لیکن روسیوں کی نظر میں جورجیا مختلف ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جورجیا روس کے جنوبی سرحد کے کشیدہ علاقے کاکس خطے میں ہے اور روس کو کبھی یہ گوارا نہیں ہوگا کہ اس خطے میں نیٹو کی افواج موجود ہو۔

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ روسیوں کو یہ لگتا ہے کہ جورجیا پر ہمیشہ ان کا اثر رہا ہے۔ کیونکہ ماضی میں روس کی سیاسی صورتحال کے پیش نظر روس کی سرحدیں ڈھیلی پڑی ہیں اور روسیوں کو لگتا ہے کہ انکے کلچرل اور سیاسی اثرات کسی بھی سرحد سے اہم ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ روسی جورجیا کو اپنے قریب پاتے ہیں۔

اوسیٹیا کی لڑائی
روسی فوج جورجیا کے جنوبی اوسیٹیا میں فضائي حملے شروع کر دیے ہيں

مسٹر ساکاسشولی ان حالات کو تھوڑا پیچیدہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ مغربی رہنما اس بات کا اعتراف کریں گے کہ امریکہ نے جورجیا جیسے ممالک سے وعدے تو بہت کیے تھے لیکن یہ سارے سفارتی وعدے تھے اور انہیں امریکہ کی ماسکو کے ساتھ بہتر رشتے بنانے کی کوششوں کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا ہوگا۔

ایک ایسے وقت میں جب جنوبی اوسیٹیا اور روس کے درمیان جنگ کی صورتحال ہے، امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے تشدد ختم کرنے کی اپیل کی کوششیں کی جائیں گی لیکن زیادہ کچھ توقع نہیں کی جانی چاہیے۔

وہ اس لیے کہ امریکہ کو جنوبی کوریا کے جوہری پروگرام پر روس کی حمایت چاہیے ہوگی اور اس کے اتحادی جیسے جرمنی زیادہ دخل اندازی اس لیے نہیں کریں گے کیونکہ روس سے اسے توانائی چاہیے۔ تو اس پوری لڑائی میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک ایک سفارتی رویہ اختیار کریں گے اور روس جیسے طاقتور ملک کے معاملات میں زیادہ مداخلت نہیں کریں گے اور ان کی مداخلت نہ کرنے کامطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس جنگ میں روس کو ان کی حمایت حاصل ہے۔

صدر ساکاشولی کا دنیا کو دیکھنے کا نظریہ جارج بش جیسا ہی ہے اور وہ کسی بھی ملک کی آزادی اور اس کے تحفظ کے معاملات پر خوب باتیں کرتے ہیں۔ آج وہ روس کی فوجی کارروائیوں کا موازنہ 1939 میں پولینڈ پر جرمنی کے حملے اور 1968 میں چیکوسلویکیا کو کچلنے کے لیے سویت یونین کی مداخلت سے کرتے ہیں۔

ان دونوں جنگوں میں مغربی ممالک نے بہت بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیا تھا اور شاکاشولی یہ مثالیں دے کر مغربی ممالک کو شرمندہ کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ روس کی کارروائیوں کی حوصلہ شکنی کریں۔لیکن ان کے ہاتھ شاید مایوسی ہی لگے کیونکہ روس اور مغربی ممالک کے رشتے آج بہت حد تک روس کی طاقت پر منحصر ہیں۔

اسی بارے میں
روس: معاہدے سے علیحدگی
14 July, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد