جورجیامیں روسی فضائی حملے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی طیاروں نے وسطی جورجیا میں جنوبی اوسیٹیا کے قریب گوری شہر میں کے علاقے میں فضائی حملے کیے ہیں جہاں عام شہری اور فوجی پناہ گاہوں کی تلاش میں دوڑتے نظر آئے۔ روس اور جورجیا کی فوجوں کے درمیان جورجیا کے علیحدگی پسند علاقے جنوبی اوسیٹیا میں جمعہ سے شدید لڑائی جاری ہے اور خدشہ ہے کہ یہاں مکمل جنگ شروع ہو جائے گی۔ سنیچر کو گوری میں زوردار دھماکے سنے گئے۔ جورجیا کے فوجیوں نے بتایا کہ وہاں تین فوجی اڈے ہیں جہاں ہزاروں فوجی تعینات ہیں۔ روس جورجیا کے علیحدگی پسند علاقے جنوبی اوسیٹیا میں مزید فوجی روانہ کر رہا ہے جہاں اس کی فوج جورجیا کی فوج سے لڑ رہی ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جب جورجیا نے روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے خلاف اوسیٹیا میں کارروائی شروع کی تو ماسکو نے جارجیا میں فوجیں بھیج دی ہیں۔ روس کے صدر دمیٹری میڈوڈیو نے کہا کہ ان کے ملک نے جورجیا کو امن پر مجبور کرنے کے لیے کارروائی شروع کی ہے۔ روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی اوسیٹیا کے دارالحکومت کشِنویلی کے مضافات میں رات بھر لڑائی ہوتی رہی جس کی شدت جمعہ کے مقابلے میں کم رہی۔ اس سے قبل جورجیا کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ بحیرہ اسود کی بندرگاہ پوٹی روسی فضائیہ کی بمباری سے متاثر ہوئی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ اس کے بارہ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ علیحدگی پسند ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد 1400 بتا رہے ہیں۔
جورجیا میں لڑائی رکوانے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہیں۔ تاہم سلامتی کونسل جارجیا میں جنگ بند کروانے کے لیے کسی متفقہ اعلامیے پر پہنچنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکی۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں سفارت کاروں کا ہنگامی طور پر دو مرتبہ اجلاس ہوا۔ مگر ایسے الفاظ پر اتفاق نہیں ہو سکا جو سلامتی کونسل کے تمام اہم فریقوں کے لیے قابل قبول ہوں۔ جارجیا اور جنوبی اوسیٹیا میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صور تحال کو کنڑول کرنے کے لیے سلامتی کو نسل کے ارکان کی رائے بٹی ہوئی ہے۔ جو بہت ہی مایوس کن صورت حال ہے۔ روس سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور کسی بھی ایسے دستاویز کو مسترد کرسکتا ہے جو اس کے مؤقف سے متصادم ہو یا اس کے نقطۂ نظر میں غیر مناسب اور غلط ہو۔ اسی لیے کونسل کے مستقل اور غیر مستقل پندرہ ممبران کسی سرکاری بیان میں ابھی تک آمادہ نہیں ہوسکے۔
مستقل ارکان میں سے امریکہ برطانیہ اور فرانس یہ سمجھتے ہیں کہ جورجیا میں روس کی جارحیت کی وجہ سے حالات تیزی سے جنگ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ جبکہ روس اس کا ذمہ دار جورجیا کو سمجھتا ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس اور جورجیا کے سفیروں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ جس کے بعد اجلاس بند کمرے میں منتقل کردیا گیا۔ تاہم بند کمرے کے اجلاس کے بعد صرف یہ اعلان ہوسکا کہ مشترکہ اعلامیے کے لیے الفاظ کے انتخاب پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔ کونسل کا اجلاس سنیچر کو بھی ہوگا۔ مگر اس دوران جارجیا میں صورتحال مزید بگڑنے کا کا اندیشہ ہے۔ ادھر امریکہ نے روس اور جورجیا کی افواج سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ امریکہ وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے جنگ بند کروانے کے لیے ایک خصوصی ایلچی یورپ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ جورجیا کے صوبے جنوبی اوسیٹیا کے روس کے ساتھ تعلقات ہیں اور یہ علاقہ انیس سو نوّے کی دہائی سے عملاً خودمختار ہے۔ جنوبی اوسیٹیا میں بیشتر لوگوں کے پاس روسی پاسپورٹ ہیں۔ جورجیا کی اس علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک عرصے سے علیحدگی پسندوں سے لڑائی جاری ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ روس ان علیحدگی پسندوں کی حمایت کرتا ہے۔ تازہ ترین واقعات میں جورجیا اور علیحدگی پسندوں نے ایک دوسرے پر جمعرات کو طے ہونے والے جنگ بندی کا معادہ توڑنے کے الزامات لگائے ہیں۔ جورجیا کے طیاروں نے علیحدگی پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بھی بنایا۔ | اسی بارے میں جارجیا: ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان08 November, 2007 | آس پاس روس: معاہدے سے علیحدگی14 July, 2007 | آس پاس میگافون کی ضرورت نہیں: نیٹو26 June, 2007 | آس پاس امریکی میزائل نظام پر روس کا ردعمل04 April, 2008 | آس پاس شاہراہ ریشم کی ایک اور کڑی08 February, 2007 | آس پاس جارجیا انقلاب: بش کیلیے مثالی 10 May, 2005 | آس پاس جارجیا بحران: سفارتی کوششیں22 November, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||