جورجیا اور اوسیٹیا مسئلہ ہے کیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جورجیا اور علیحدگی اختیار کرنے والے صوبے جنوبی اوسیٹیا کے درمیان گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے جاری کشیدگی جنگ کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ جنوبی اوسیٹیا میں علیحدگی پسند انتظامیہ انیس سو نوے کی خانہ جنگی کے بعد سے باضابطہ آزادی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنوبی اوسیٹیا کی اب کیا حیثیت ہے؟ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے ساتھ انیس سو اکیانوے بانوے میں آزادی کی جنگ کے بعد جنوبی اوسیٹیا اپنے ہی اندرونی مسائل میں الجھ کر رہ گیا۔جنوبی اوسیتیا نے خودمختاری کا اعلان کر دیا لیکن اس کو کسی دوسرے ملک نے تسلیم نہیں کیا۔ جورجیا کے صدر میخائل شاخیشولی نے عزم کیا ہے کہ وہ جنوبی اوسیٹیا اور ایک اور علیحدگی اختیار کرنے والے صوبے ابخازیہ پر جورجیا کی مکمل حکمرانی قائم کریں گے۔ اوسیٹیا کے لوگ کیوں جورجیا سے آزادی چاہتے ہیں؟ اوسیٹیا کے لوگوں کا تعلق دریائے ڈون کے جنوب میں روس کے میدانی علاقوں سے ہے اور ان کا ایک علیحدہ لسانی تشخص ہے۔ تیرہویں صدی میں منگول حملہ آوروں کی کوہ قاف پر فوج کشی نے انہیں جنوب کی طرف دھکیل دیا تھا اور یہ جورجیا کی سرحد کے ساتھ آباد ہو گئے تھے۔ جنوبی اوسٹیا کے لوگ شمالی اوستیا میں آباد اپنے لسانی بھائیوں کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں، جو کہ روس کی فیڈریشن میں ایک آزاد اور خود مختار علاقہ ہے۔ لسانی طور پر جورجیا سے تعلق رکھنے والے لوگ جنوبی اوسٹیا میں کل آبادی کا صرف ایک تہائی حصہ ہیں اور یہ اقلیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جورجیا کےلوگوں کا جنوبی اوسیٹیا کے نام پر بھی اختلاف ہے اور وہ اس خطے کو جنوبی اوسیٹیا کے بجائے اس کے دو بڑے قدیم شہروں شماخابلو یا تشخنوالی کے نام سے پکارتے ہیں۔ موجودہ بحران کس وجہ سے شروع ہوا؟ سن دو ہزار چار میں صدر میخائل شاخیشولی کے انتخاب کے بعد کشیدگی شروع ہوئی۔ انہوں نے جنوبی اوسیٹیا کو جورجیا کے اندر رہتے ہوئے اندورنی خود مختاری دینے کی پیشکش کی۔ لیکن سن دو ہزار چھ میں اوسیٹیا کے لوگوں نے ایک غیر سرکاری ریفرنڈم کے ذریعے مکمل خودمختاری کے حق میں فیصلہ کیا۔ اپریل دو ہزار آٹھ میں نیٹو نے اعلان کیا کہ جورجیا کو مستقبل میں کسی مرحلے پر نیٹو کی رکنیت دی جا سکتی ہے۔ اس اعلان پر روس جو کہ نیٹو کی مشرقی یورپ میں توسیع کا مخالف ہے سخت برہم ہو گیا۔ چند ہی ہفتوں میں روس نے جنوبی اوسیٹیا اور ابخازیہ کے علیحدگی پسند صوبوں سے تعلق استوار کرنا شروع کر دیے۔ جولائی میں روس نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے جورجیا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی اوسیٹیا پر پروازیں کی ہیں تاکہ تبلیسی میں کچھ لوگوں کے دماغ ٹھنڈے کیے جا سکیں۔ اس کے بعد تشدد کے اکا دکا واقعات میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور اسی دوران جورجیا کی طرف کی گئی بمباری میں چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد جنگ بندی کی تمام تر کوششیں دم توڑ گئیں ۔ کیا روس اس جنگ میں براہ راست ملوث ہو سکتا ہے؟ روس کا اصرار ہے کہ وہ بنیادی طور پر اس خطے میں امن قائم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ روس جورجیا کی طرف سے لگائے جانے والے ان الزامات کی تردید کرتا ہے کہ وہ علیحدگی پسندوں کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ روس نے جنوبی اوسیٹیا میں رہنے والے اپنے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جنوبی اوسیٹیا کی سترہ ہزار آبادی میں سے تقریباً نصف نے روس کی طرف سے روس کا پاسپورٹ حاصل کرنے کی پیشکش کو قبول کر لیا ہے۔ روس جنوبی اوسیٹیا میں محدود فوجی مداخلت کو جنوبی اوسیٹیا کو تسلیم کرنے پر شاید ترجیح دے کیونکہ دوسری صورت میں جورجیا کے ساتھ بھرپور جنگ کا خطرہ موجود ہے۔ جورجیا کے نیٹو سے تعلق کا کیا بنے گا؟ صدر میخائل شاخیشولی نے نیٹو کی رکنیت حاصل کرنے کو اپنے نصب العین بنا لیا ہے۔ جورجیا کے امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور وہ مغربی ممالک سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جورجیا کے صدر شاخیشولی نیٹو کی باضابطہ رکنیت اختیار کر کے اس تنازعہ میں نیٹو کو روس کے مدمقابل لا کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا سوچنا بھی دشوار ہے کیونکہ نیٹو کبھی بھی سرد جنگ کے اپنے حریف کے ساتھ کسی براہ راست تنازعہ میں ملوث نہیں ہونا چاہے گا۔ وہ بڑی کامیابی سے سرد جنگ کے دوران روس کے ساتھ کسی مسلح تصادم سے اجتناب کرتا رہا ہے۔ | اسی بارے میں باغیوں کا محاصرہ، روس کی دھمکی08 August, 2008 | آس پاس روسی ٹینک جورجیامیں داخل ہوگئے 08 August, 2008 | آس پاس روسی ٹینک جورجیا میں داخل ہو گئے 08 August, 2008 | آس پاس جورجیا لڑائی شدت اختیار کر گئی 09 August, 2008 | آس پاس جورجیامیں روسی فضائی حملے09 August, 2008 | آس پاس اوسیٹیا: مسئلے کا حل آسان نہیں09 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||