BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 May, 2008, 10:24 GMT 15:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میدوی ایدف روس کے صدر بن گئے
دمتری میدوی ایدف
نئے صدر کے تقرر کی شاندار تقریب گیس اور معدنی تیل کی دولت سے مالا مال روس کی نئی خود اعتمادی کا مظہر ہے
بیالیس سالہ دمتری میدوی ایدف سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس کے تیسرے صدر بن گئے ہیں۔ نئے صدر کے تقرر کی تقریب کریملن محل میں ہوئی جس میں چوبیس سو لوگوں نے شرکت کی۔

میدوی ایدف مارچ میں ہونے والے انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے۔ اس تقریب سے میدوی ایدف کے گمنامی سے باہر آنے کا عمل مکمل ہو گیا۔


روس کے سابق صدر ولادیمیر پوتن نےاختیارات کی باگ ڈور تو حوالے کر دی لیکن کریملن محل میں ہونے والی تقریب میں ان کے مرکزی کردار سے روس کے مستقبل میں ان کی اہمیت کا اندازہ ہوتا تھا۔

عدم برداشت
 کریملن میں منحرفین کے لیے عدم برداشت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ منگل کو پولیس نے ’دی ادر رشیا‘ نامی تنظیم کے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا جن کے بارے میں خیال تھا کہ نئے صدر کے تقرر کے موقع پر مظاہرہ کریں گے۔ اس تنظیم کی قیادت شطرنج کے سابق عالمی چیمپیئن گیری کیسپروو کر رہے ہیں۔
پچپن سالہ پوتن آئین میں دو بار صدر بننے کی حد کی وجہ سے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پوتن بحیثیت وزیر اعظم صدر میدوی ایدف کی انتظامیہ میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کے بارے میں خیال ہے کہ وہ جمعرات کو وزیر اعظم بن جائیں گے۔

صدر پوتن نے نئے صدر کے تقرر کو روس کے لیے ’انتہائی اہم مرحلہ‘ قرار دیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے صدر میدوی ایدف سے اصرار کیا کہ وہ ان کی پالیسیوں کو جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ’درست پالیسیاں‘ تھیں۔

صدر میدوی ایدف نے ’بہتر‘ روس کے لیے کام کرنے کا عہد کیا۔ انہوں نے سابق صدر کی حمایت کا شکریہ ادا کیا اورامیدظاہر کی کہ یہ آئندہ بھی جاری رہے گی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ روس کے نئے صدر کے تقرر کی شاندار تقریب گیس اور معدنی تیل کی دولت سے مالا مال روس کی نئی خود اعتمادی کا مظہر ہے۔

صدر میدوی ایدف لبرل اقتصادی پالیسی پر یقین رکھتے ہیں اور سابق صدر پوتن کے نائب وزیر اعظم کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ وہ روس کی ریاست کی ملکیت تیل اور گیس کی کمپنی گیزپروم کے سربراہ بھی رہے ہیں۔

ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز راجرز نے کہا کہ یہ سوال لوگوں کو پریشان کرتا رہے گا اور الجھائے رکھے گا کہ کریملن میں اصل اختیار کس کے پاس ہے۔

کریملن میں منحرفین کے لیے عدم برداشت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ منگل کو پولیس نے ’دی ادر رشیا‘ نامی تنظیم کے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا جن کے بارے میں خیال تھا کہ نئے صدر کے تقرر کے موقع پر مظاہرہ کریں گے۔ اس تنظیم کی قیادت شطرنج کے سابق عالمی چیمپیئن گیری کیسپروو کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد