روس: برٹش کونسل کے دفتر’بند‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برٹش کونسل کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور روس کے درمیان جاری تناؤ کی وجہ سے ماسکو میں واقع اس کے دو دفاتر ممکنہ طور پر بند ہیں رہیں گے۔ روس میں واقع برٹس کونسل دفاتر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ عملے کی حفاظت کے پیش نظر دونوں دفاتر بند رہیں گے۔ بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس واقعے کے بعد برطانوی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جوابی کارروائی کا امکان کم ہی ہے۔ تاہم برطانوی اہلکاروں کا موقف بدلا نہیں ہے اور ان کا کہنا ہے کہ روس میں ان کی کارروائیاں پوری طرح قانون کے مطابق ہیں۔ برطانیہ نے روس میں سینٹ پیٹربرگ اور یکاترنبرگ میں اپنے دفاتر بند کرنے کا روسی مطالبہ اس وقت تک نہیں مانا تھا جب تک روس کے سکیورٹی اہلکاروں نے برٹش کونسل کے اہلکاروں کو یہ بتایا کہ ان کی نوکریاں غیر قانونی ہیں یا وہ غیر قانونی طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ روس کا کہنا ہے کہ برٹش کونسل ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کر رہی تھی جبکہ برطانیہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ روس کی جانب سے برٹش کونسل کے دفاتر کو بند کرنے کے دباؤ کے بعد بدھ کو برطانیہ کے خارجہ سیکرٹری ڈیوڈ ملی بینڈ نے روس کے رویہ کو پوری طرح سے ناقابل برداشت بتایا تھا۔ برٹش کونسل کا مقصد ثقافتی اور تعلیمی رشتوں کو بہتر بنانا ہے اور روس میں برٹش کونسل نے اپنے دفتر اس وقت بند کیے جب روسی عملے کو سکیورٹی حکام نے طلب کیا اور ان سے پوچھ گچھ کی۔ اس کے علاوہ سینٹ پیٹر برگ میں برٹش کونسل کے ڈائریکٹر اور برطانیہ کے سابق لیبر رہنما کے بیٹے اسٹیفن کنوک کا بھی روسی سکیورٹی اہلکاروں نے پیچھا کیا، پوچھ گچھ کی اور بعد میں چھوڑ بھی دیا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ شراب پی کر غلط لین میں گاڑی چلا رہے تھے۔ بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار برڈجیٹ کیندال کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت ایک اخلاقی موقف اختیار کرسکتی ہے جس کے تحت وہ کہہ سکتی ہے کہ روس میں برٹش کونسل بند کرنے سے روس کی شبیہ خراب ہوگی اور عام روسی کونسل میں ہونے والے ان پروگرامز سے محروم ہو جائے گا جو برطانیہ اور روس کے درمیان ایک ثقافتی کڑی کا کام کرتے تھے۔ برٹش کونسل کے دفاتر کی روس میں بندش اس کشیدگی کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے جو روس کے جاسوسی ادارے ’ کے جی بی‘ کے ایک سابق رکن الیگزنڈر لِیٹوینِنکو کی موت کے بعد شروع ہوئی تھی۔ یاد رہے کہ روس نے اس تاجر کو برطانیہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا ہے جس پر برطانوی تفتیشی اہلکاروں کو شک ہے کہ اس نے لِٹوینِنکو کو مارا تھا۔ |
اسی بارے میں اینا پولیکووسکایا : آخری مضون شائع ہوگیا 12 October, 2006 | آس پاس پوتن کا ایران کا تاریخی دورہ16 October, 2007 | آس پاس روسی صحافی کے قتل میں گرفتاریاں27 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||