 | | | مبصرین کے مطابق صدر پوتن اقتدار پر کنٹرول باقی رکھنا چاہتے ہیں |
روسی صدر ولادمیر پوتن نے کہا ہے کہ وہ آئندہ مارچ اقتدار چھوڑنے کے بعد بھی روسی سیاست میں بااثر شخصیت کا کردار ادا کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ مغربی ممالک کے صحافیوں اور اساتذہ سے ایک گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ وہ 2012 یا 2016 میں صدارتی امیدوار نہیں ہونگے۔ تاہم صدر پوتن نے کہا کہ کئی رہنما ان کا جانشین بننے کی دوڑ میں ہیں اور ان میں نئے روسی وزیر اعظم وِکٹر زوبکوف بھی شامل ہیں۔ صد پوتن نے وِکٹر زوبکوف کو، جنہیں گزشتہ ہفتے گمنامی سے لاکر وزیراعظم بنا دیا گیا، ’واقعی پروفیشنل‘ قرار دیا ہے۔  | اقتدار میں کردار  صدر پوتن نے واضح طور پر اس بات سے انکار نہیں کیا کہ وہ 2012 یا 2016 میں ایک بار پھر صدارتی امیدوار نہیں بنیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے جانشین کو ان کے کردار کا خیال رکھنا ہوگا۔ صدر پوتن نے کہا کہ آئندہ صدر کو میرے ساتھ کام کرنے کا طریقہ ڈھونڈنا پڑے گا۔  |
بلیک سی کے ساحل پر اپنی تفریحی رہائش گاہ میں پوتن نے اپنے وزیراعظم کی کافی تعریف کی۔ وزیراعظم بننے سے قبل وِکٹر زوبکوف ٹیکس وصول کرنے والی پولیس میں ایک معمولی بیوروکریٹ تھے۔صدر پوتن نے اس طرح کے اہم اشارے دیے کہ وزیراعظم زوبکوف ان کا جانشین بننے کے دعویدار کی حیثیت سے ابھر سکتے ہیں۔ کئی دیگر رہنما بھی ان کا جانشین بننے کے دعویدار ہیں۔ پوتن آئندہ مارچ صدارت کا عہدہ چھوڑنے والے ہیں۔ لیکن اس بات کے اہم اشارے ہیں کہ وہ روسی سیاست میں بااثر کردار ادا کرتے رہیں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اپنے جانشین کے کردار کو کمزور نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ صدر پوتن نے واضح طور پر اس بات سے انکار نہیں کیا کہ وہ 2012 یا 2016 میں ایک بار پھر صدارتی امیدوار نہیں بنیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے جانشین کو ان کے کردار کا خیال رکھنا ہوگا۔ صدر پوتن نے کہا کہ آئندہ صدر کو میرے ساتھ کام کرنے کا طریقہ ڈھونڈنا پڑے گا۔
|