صدارتی انتخابات: مبصرین کی تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کے صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق دمتری میدوی ایدف کی بھاری اکثریت سے کامیابی یقینی ہو چکی ہے تاہم اس انتخابات کا جائزہ لینے والی مغربی مبصرین کی واحد ٹیم نے کہا ہے کہ اس انتخابی عمل میں کئی خامیاں تھیں۔ پارلیامنٹری اسمبلی آف دا کونسل آف یورپ یعنی ’پیس‘ کے مبصرین کے مشن نے نے کہا ہے کہ ان انتخابات میں ’روس میں جمہوریت کا صحیح اظہار نہ سکا‘ ۔ ان کا کہنا ہے کہ دمتری میدوی ایدف کی کامیابی بہرحال ہوتی لیکن انتخابات میں کئی مسائل تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ امیدواروں کو ذرائع ابلاغ تک یسکاں رسائی نہیں تھی۔ اس کے علاوہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سرکاری اداروں کے ملازممین کو باقائد ہدایت دی گئی کہ وہ جا کر مسٹر میدوی ایدف کو ووٹ ڈالیں۔ میدوی ایدف روس کے اول وزیر اعظم ہیں اور انہوں نے ابتدائی نتائج کے بعد کہا کہ ان کو اپنے حریف سے بہت زیادہ برتری حاصل ہو چکی ہے اور ان کی فتخ یقینی ہو چکی ہے۔ دمتری میدوی ایدف نے کامیابی کے بعد کہا کہ وہ اپنے پیش رو ولادی میر پوتن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے روس کے دفاع پر خصوصی توجہ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بطور صدر روس کی خارجہ پالیسی پر توجہ دیں گے اور ولادی میر پوتن صدر کا عہدہ چھوڑ کر وزیر اعظم بن جائیں گے۔میدوی ایدف صدر ولادی میر پوتن کے حمایت یافتہ تھے۔ دمتری میدوی ایدف نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ ولادی میر پوتن کے بطور وزیر اعظم کے ساتھ کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کریں گے اور وہ سمجھتے ہیں کہ دونوں اپنے فرائض احسن انداز میں نبھا سکتے ہیں۔ الیکشن کمشن کی طرف سے کیے جانے والےاعلان کےمطابق ستر فیصد ووٹوں کی گنتی ہو چکی ہے جس کےمطابق دمتری میدوی ایدف انہتر فیصد ووٹ حاصل کر چکے ہیں جبکہ ان کے قریبی حریف کمیونسٹ لیڈر گنادی ژیئو گانف ہیں جنہوں نے بیس فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ روسی صدر ولادی میئر پوتن نے دمتری میدوی ایدف کو مبارک باد دی ہے اور دونوں رہنماء ماسکو کے ریڈ سکوائر میں اکٹھے دیکھے گئے۔ | اسی بارے میں روسی انتخابات شفاف نہیں: مبصر03 December, 2007 | آس پاس پوتن کی جماعت کی واضح برتری02 December, 2007 | آس پاس اسلحے کی نئی دوڑ میں دھکیل رہے ہیں08 February, 2008 | آس پاس حکومت مخالف سابق چیمپیئن قید25 November, 2007 | آس پاس پوتن کی کتیا کے لیے سیٹلائٹ پٹہ 25 December, 2007 | آس پاس روس: برٹش کونسل کے دفتر’بند‘17 January, 2008 | آس پاس روس: میزائیلوں کا تجربہ26 December, 2007 | آس پاس ’2012 میں انتخاب لڑسکتا ہوں‘15 September, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||