BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 December, 2007, 22:30 GMT 03:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
روسی انتخابات شفاف نہیں: مبصر
صدر پوتن
صدر پوتن کی جماعت نے %64.1 ووٹ حاصل کیے ہیں
غیر ملکی مبصرین کا کہنا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی جماعت نے جن پارلیمانی انتخابات میں فتح حاصل کی ہے وہ’شفاف نہیں تھے‘۔

یہ بیان یورپی تنظیم ’دی آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کو آپریشن( او ایس سی ای) اور کونسل آف یورپ کی کی مشترکہ مبصر ٹیم کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ تاہم روسی صدر کا کہنا ہے کہ انتخابات’قانونی‘ تھے اور اس کے نتائج ان پر عوامی اعتماد کا مظہر ہیں۔

مبصرین کی جانب سے روس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ’انتخابات شفاف نہیں تھے اور وہ جمہوری انتخابی عمل اور کونسل آف یورپ اور’او ایس سی ای‘ کے معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہے‘۔

بیان کے مطابق حکمران جماعت نے ان انتخابات میں’سرکاری ذرائع اور میڈیا کوریج‘ کا ناجائز استعمال کیا اور یہ الیکشن’ایسے ماحول میں ہوئے جہاں نہ ہونے کے برابر سیاسی مقابلہ بازی موجود تھی‘۔

کونسل آف یورپ اور’او ایس سی ای‘ نے روسی انتخابات کی نگرانی کے لیے تین سو تیس غیر ملکی مبصر روس بھیجے تھے اور اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ روس نے مزید مبصرین کو ویزا فراہم کرنے میں تاخیری حربے اپنائے اور وہ ان انتخابات کی نگرانی نہ کر سکے تاہم روس نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔

ادھر روسی الیکشن کمیشن کے مطابق قریبًا تمام ووٹ گنے جا چکے ہیں اور پوتن کی جماعت متحدہ روس نے چونسٹھ اعشاریہ ایک فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔متحدہ روس کی کامیابی کا مطلب ہے کہ ولادیمیر پوتن صدر کا عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی سیاست میں کردار ادا کر سکیں گے اور ممکن ہے کہ وہ وزیراعظم بن جائیں۔

ان انتخابات میں گیارہ جماعتوں نے حصہ لیا تھا اور نتائج کے مطابق گیارہ فیصد ووٹ حاصل کرنے والی کمیونسٹ پارٹی نے دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قانونی چارہ جوئی کرے گی اور اسمبلی کے بائیکاٹ پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

روسی اپوزیشن رہنما اور شطرنج کے سابق عالمی چیمپئن گیری کیسپروف کا کہنا ہے کہ’یہ انتخابات روسی تاریخ کے غیرشفاف ترین اانتخابات تھے‘۔متحدہ روس کے سربراہ بورس گرِزلوو نے اعتراف کیا کہ کچھ بے قاعدگیاں ہوئی ہیں لیکن انہوں نے انہیں معمولی قرار دیا ہے۔

متعدد مغربی ممالک نے بھی انتخابات میں بے قاعدگیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ جرمنی کے سرکاری ترجمان کا کہنا ہے کہ’ روس میں نہ پہلے جمہوریت تھی اور نہ اب ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد