اسلحے کی نئی دوڑ میں دھکیل رہے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے متنبہ کیا ہے کہ دنیا کو اسلحے کی ایک نئی دوڑ میں دھکیلا جا رہا ہے لیکن روس خود کو اس میں پڑنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اپنے آٹھ سالہ دور کی وراثت کو اجاگر کرنے کے لیے کی گئی تقریر میں انہوں نے کہا ہے کہ اس وقت جب کہ روس سوویت دور کے فوجی اڈوں کو ختم کر رہا ہے نیٹو ممالک روسی سرحد کے قریب اڈے تعمیر کر رہے ہیں اور امریکہ وسطی یورپ میں میزائل دفاعی نظام نصب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیٹو ممالک نے اس سلسلے میں روسی تشویش کو پیش نظر رکھنے یا کسی مفاہمت کو تلاش کرنے تک کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی۔ لیکن اس کے ساتھ صدر پوتن نے یہ بھی کہا ہے کہ روس نے ہمیشہ اعلٰی تکنیکی اسلحے کی تیاری سے اسلحے کی دوڑ سے پیدا ہونے والے چیلنجوں کا جواب دیا ہے۔ انہوں نے قومی سلامتی کو مستحکم بنانے کے لیے روسی مسلح افواج کے لیے نئی بارہ سالہ حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا۔ عالمی امور کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار نک چالڈ کا کہنا ہے کہ صدر پوتن ٹھیک ایک سال پہلے جرمنی میں ہونے والی سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر امریکی خارجہ پالیسی کے بارے میں انتباہ کی گھنٹی بجائی تھی۔ امریکی وزیر دفاع روبرٹ گیٹس جو خود بھی اس کانفرنس میں موجود تھے اس کا تبکھا سا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایک سرد جنگ بہت کافی ہے‘۔ لیکن اس سے تشویش کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ اپنی موجودگی پر روس کے نئے اصرار سے مغرب میں تشویش بڑھی ہے اور صدر پوتن کی زبان اور اسلحے کی نئی دوڑ کے بارے ان کے انتباہ سے اس تشویش میں مزید اضافہ ہو گا۔
صدر پوتن کا اصرار ہے کہ اس میں ماسکو کا کوئی قصور نہیں ہے کیونکہ روس تو متاثرہ فریق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ مشرق کی طرف نیٹو کی پیش رفت اور وہ امریکی منصوبے ہیں جنہیں روسی تشویش کی خاطر میں لائے بغیر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ مغرب میں کچھ حلقے سمجھتے ہیں کہ صدر پوتن کی بات میں وزن ہے جب کہ امریکہ اور نیٹو ممالک کاکہنا ہے کہ ان کا رخ روس کی طرف نہیں ہے ان کا کہنا ہے کہ وجہ کچھ بھی صدر پوتن کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے اب جب کہ روس اتنا کمزور نہیں رہا، اس کے پاس پیسوں کی وہ کمی بھی نہیں ہے، اس کے داخلی مسائل بھی اتنے نہیں رہے اور اس کی خارجہ پالیسی بھی اس قدر غیر مزاحمت پر مبنی نہیں رہی تو وہ یہ پیغام دے رہا ہے کہ عالمی سٹیج وہ بھی موجود ہے۔ چند ہی ہفتے بعد روس میں صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں جن کے بعد پوتن سبکدوش ہو جائیں گے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اس کے بعد وہ کیا کرنے کے عزائم رکھتے ہیں۔ تاہم امریکہ باقی نیٹو ممالک کو نئے روس کا حساب رکھنا ہو گا کیونکہ یہ تعلقات کا نیا مرحلہ ہے۔ |
اسی بارے میں امریکی میزائل نظام اور کیوبا کا بحران27 October, 2007 | آس پاس امریکہ انخلاء کی تاریخ دے: روس18 October, 2007 | آس پاس پوتن کا ایران کا تاریخی دورہ16 October, 2007 | آس پاس پوتن ’قتل کے منصوبے‘ سے آگاہ15 October, 2007 | آس پاس ’2012 میں انتخاب لڑسکتا ہوں‘15 September, 2007 | آس پاس پوتن، بش غیر سرکاری ملاقات02 July, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||