امریکی میزائل نظام اور کیوبا کا بحران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کے صدر ولادمیر پوتن نے یورپ میں میزائل دفاعی نظام نصب کرنے کے امریکی منصوبے کا انیس سو ساٹھ کے عشرے میں کیوبا کے میزائل بحران سے موازنہ کرتے ہوئے کہا ہے تکنیکی اعتبار سے معاملہ بالکل ایک جیسا ہے۔ کیوبا کے میزائل بحران کے دوران امریکہ اور روس ایک جوہری تصادم کے قریب پہنچ گئے تھے۔ پرتگل میں یورپی برادری کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورت حال کیوبا کے میزائل بحران سے مختلف نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ لیکن یہ معاملہ اتنی خطرناک صورت حال اختیار نہیں کرے گا کیونکہ امریکہ اور روس اب ایک دوسرے کے دشمن نہیں رہے بالکہ ایک دوسرے کے ’پاٹنر‘ ہیں اور صدر بش ان کے ذاتی دوست ہیں۔ انیس سو باسٹھ میں امریکہ اور روس میں اس وقت کشیدگی شروع ہوئی جبکہ امریکہ کے جاسوس طیاروں نے کیوبا میں روس کا میزائل اڈہ دریافت کیا جہاں سے امریکی سرزمین کو آسانی سے نشانہ بنایا جا سکتا تھا۔ ماسکو کی طرف سے کیوبا میں اس میزائل اڈے کی تمعیر کے فیصلہ کو امریکہ کی جانب سے یورپ میں طاقت ور میزائل نصب کرنے کے ردعمل کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ اس دوران پیدا ہونے والی کشیدگی اس وقت ختم ہوئی جب روس نے اس اڈے کو امریکہ کی طرف سے کیوبا پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کے بعد ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ کے صدر جارج بش نے کہا ہے کہ یورپ میں میزائل دفاعی نظام کی تنصیب ایران کی طرف سے خطرے کے پیش نظر اشد ضروری ہو گئئ ہے۔ تاہم امریکہ کے وزیر دفاع نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ چیک رپبلک اور پولینڈ میں اڈوں کی تعمیر کا کام روک دیا جائے گا تاوقتکہ روس کے اس بارے میں خدشات کو دور نہیں کیا جاتا۔ روس کے صدر نے کہا کہ کیوبا کے میزائل بحران کے بعد امریکہ اور روس کے تعلقات نے جو صورت اختیار کی تھی وہ اسے یاد دلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس نے خطے میں دفاعی صورت حال کے حوالے سے کچھ تجاویز پیش کی ہیں جن کا انہیں ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔ امریکہ کی وزارتِ دفاع کے ترجمان شین میکورمک نے کہا ہے کیوبا کے میزائل بحران اور موجودہ صورت حال تاریخی اعتبار سے مختلف ہیں۔ یورپی برادری روس کے ساتھ ایک طویل المعیاد معاہدے کے مندرجات جلد طے کیئے جانے کی خواہیش رکھتی ہے جس میں یورپ کو ایندھن کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔ یورپ اپنی توانائی کی کل ضروریات کا ایک تہائی حصہ روس سے گیس اور تیل حاصل کرکے کرتا ہے۔ | اسی بارے میں ’2012 میں انتخاب لڑسکتا ہوں‘15 September, 2007 | آس پاس ایران اور روس تعلقات، توقعات اور پیچیدگیاں16 October, 2007 | آس پاس پوتن کا ایران کا تاریخی دورہ16 October, 2007 | آس پاس امریکہ انخلاء کی تاریخ دے: روس18 October, 2007 | آس پاس ایران کے جوہری سفارتکار مستعفی 20 October, 2007 | آس پاس سعید جلیلی پر سب کی’ کڑی نظر‘23 October, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||