روس: میزائیلوں کا تجربہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس نے ایک بار بھر بین البراعظمی میزائیلوں کے تجربات شروع کر دیئے ہیں۔ روس نے منگل کے روز سات ہزار کلو میٹر تک مار کرنےوالےدو میزائیلوں کے تجربے کیے۔ نئے روسی میزائیل سوویت یونین کے زمانے کے میزائیلوں کی جگہ لیں گے۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد روس نے میزائیل تجربے کم کر دیئے تھے۔ روس نے نئے میزائیلوں کے تجربات ایسے وقت شروع کیے ہیں جب امریکہ مرکزی یورپ کے ممالک، چیک جمہوریہ اور پولینڈ میں میزائیل حملوں سے بچاؤ کا ایک جدید میزائیل سسٹم نصب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ آر ایس 24 نامی میزائیل تین ایٹمی وار ہیڈ کے ساتھ سات ہزار کلومیٹر دور تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ روس کا کہنا کہ اس کا میزائیل کسی بھی دفاعی نظام میں گھسنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ روس کو یورپ میں اس کے میزائیل شیلڈ سسٹم سے پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ میزائیل شیلڈ سسٹم ایران کے یورپ پرممکنہ میزائیل حملے سے بچنے کے لیے لگایا جا رہا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروو نے ایک انٹرویو جس کی مکمل تفصیلات اس ہفتے کے آخر میں سامنے آئیں گی، امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ روسی خدشات کو نظر انداز کر رہا ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپ میں امریکہ کا میزائیل شیلڈ لگانا دراصل روس کو ڈرانے کی کوشش ہے نہ کہ ایران کو۔ | اسی بارے میں امریکی میزائل نظام اور کیوبا کا بحران27 October, 2007 | آس پاس میزائل: رائس، گیٹس ماسکو میں12 October, 2007 | آس پاس ’یورپ پھر روسی نشانے پر آ سکتا ہے‘03 June, 2007 | آس پاس امریکہ نیٹو سے مشورہ کرے: جرمنی03 March, 2007 | آس پاس امریکی میزائل پر روس کا ردعمل 19 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||