روس: نئے صدر کے لیے ووٹنگ شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کے عوام آج اپنے نئے صدر کا انتخاب کرنے کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں اور ملک کے دور دراز مشرقی علاقوں میں اب سے کئی گھنٹے پہلے ہی پولنگ سٹیشن کھل چکے ہیں۔ صدارت کے چار امیدوار ہیں۔ نائب وزیرِ اعظم دمتری میدوی اے دف، جن کو موجودہ صد ولاد میئر پوتن کی حمایت حاصل ہے، کمیونسٹ لیڈر گنادی ژیئو گانف، قوم پرست سیاست داں ولادی میئر زری نوفسکی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ آندرے بگ دانف۔ ان انتخابات کا جائزہ لینے کے لیے یورپی تحفظ اور تعاون کی تنظیم نے اپنی ٹیم بھیجنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے روسی حکام اس پر ایسی پابندیاں لگانا چاہتے تھے جنہیں قبول نہیں کیا جا سکتا تھا۔ سنیچر کو ’خاموشی کا دن‘ کہا گیا تھا اور اس دن کسی انتخابی مہم کی اجازت نہیں دی گئی۔ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے 109 ملین سے زائد ووٹر رجسٹرڈ ہیں۔ ولادویسٹاک میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اب سوال یہ ہے کہ کتنے لوگ ووٹ ڈالنے آتے ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق اس مرتبہ انتخابی مہم میں کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سب سمجھتے ہیں کہ انہیں نتیجہ معلوم ہے۔ | اسی بارے میں روسی انتخابات شفاف نہیں: مبصر03 December, 2007 | آس پاس پوتن کی جماعت کی واضح برتری02 December, 2007 | آس پاس اسلحے کی نئی دوڑ میں دھکیل رہے ہیں08 February, 2008 | آس پاس حکومت مخالف سابق چیمپیئن قید25 November, 2007 | آس پاس پوتن کی کتیا کے لیے سیٹلائٹ پٹہ 25 December, 2007 | آس پاس روس: برٹش کونسل کے دفتر’بند‘17 January, 2008 | آس پاس روس: میزائیلوں کا تجربہ26 December, 2007 | آس پاس ’2012 میں انتخاب لڑسکتا ہوں‘15 September, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||