جورجیا بحران پر نیٹو کا اجلاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ برسلز میں ایک ہنگامی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں جس میں جورجیا میں روس کی فوجی کارروائی پر اتحاد کے ردعمل کے حوالے سے بات چیت ہوگی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کو جورجیا پر فوج کشی کی ’سزا‘ دینے کے حوالے سے نیٹو ممالک میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کے مطابق ایک جانب امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور مشرقی یورپ کے زیادہ تر ممالک ممکنہ طور پر روس سے سختی سے پیش آنے کو کہیں گے تو وہیں فرانس اور جرمنی سمیت مغربی یورپ کے زیادہ تر ممالک روس سے اپنے تعلقات بگڑنے کے خیال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے محتاط رویے کا مظاہرہ کریں گے۔ اس اجلاس کے آغاز سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس نے کہا ہے کہ مغربی ممالک کو روس کو جورجیا پر فوج کشی سے کسی قسم کا سٹریٹیجک فائدہ نہیں اٹھانے دینا چاہیے۔ اجلاس میں شرکت کے لیے برسلز جاتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’ ہمیں روسی سٹریٹجک مقاصد کو پورا ہونے سے روکنا ہوگا جو کہ واضح طور پر جورجیا میں جمہوریت کی نفی کرنا، فوجی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جورجیا کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانا یا پھر اسے تباہ کرنا ہیں‘۔ ادھر روس نے جورجیا کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ اس کی فوج وعدے کے مطابق جورجیا کی سرزمین سے واپس نہیں جا رہی ہے۔دارالحکومت تبلیسی میں موجود جورجیا کے حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ روسی فوج جورجین زمین چھوڑ رہی ہے تاہم روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ فوج کی واپسی شروع ہو گئی ہے اور یہ عمل آنے والے چند دن میں مکمل کر لیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں روس پر انخلاء کے لیے عالمی دباؤ18 August, 2008 | آس پاس جورجیا سے روسی انخلاء کا اعلان17 August, 2008 | آس پاس ’فائربندی لیکن فوجی انخلاء نہیں‘17 August, 2008 | آس پاس روس اپنی فوج واپس بلائے: امریکہ15 August, 2008 | آس پاس ’روس فائر بندی نافذ کرے گا‘16 August, 2008 | آس پاس روسی حملے کے دور رس نتائج: امریکہ14 August, 2008 | آس پاس ’جورجیا آپریشن‘ روکنے کا حکم: روس12 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||