’روس فائر بندی نافذ کرے گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی افسران کا کہنا ہے کہ روسی وزیرخارجہ سرگئی لیوروف نے وعدہ ہے کہ ماسکو جورجیا کے دستخط شدہ جنگ بندی معاہدے کو’صدق دل‘ سے نافذ کرے گا۔ افسران کے مطابق انہوں نے یہ یقین دہانی اس وقت کروائی جب امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے جورجیا کے دورے کے بعد انہیں فون کیا ۔محترمہ رائس نے کہا تھا کہ روس فوری طور پر اپنی افواج واپس بلائے۔ رپورٹس کے مطابق روسی افواج ابھی بھی جورجیا میں کارروائی کر رہی ہیں۔ جورجیا کے صدر میخائیل سکاشویلی نے کہا ہے کہ انہوں نے جنوبی اوسیٹیا میں لڑائی کے خاتمے کے لیے روس کے ساتھ فائربندی کے معاہدے پر دستخط کر دیا ہے جو کہ فرانسیسی صدر نکولا سرکوزی کی ثالثی سے طے پایا ہے۔ تاہم صدر میخائیل سکاشویلی نے کہا کہ یہ فائربندی کا معاہدہ ہے اور تنازعے کا حتمی حل نہیں ہے۔ صدر سکاشویلی کا کہنا تھا کہ جورجیا کو علاقائی حدود کا نقصان قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے جورجیا کو نیٹو کی رکنیت نہ دینے پر مغربی ممالک پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کی رکنیت مل جانے سے لڑائی کی نوبت نہیں آتی۔ پیرس میں فرانسیسی صدر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ روس کے صدر ڈمیٹری مڈویڈیو نے وعدہ کیا ہے کہ وہ فائربندی کے معاہدے پر عمل کرنے کے لیے راضی ہیں جس کے تحت روسی افواج کا جورجیا سے انخلاء لازمی ہے۔ لیکن صدر مڈویڈیو نے کہا کہ کہ جو کچھ ہوچکا ہے اس کے بعد اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ جنوبی اوسیٹیا اور ابخازیہ جورجیا کے اندر رہیں گے۔ دریں اثناء اطلاعات کے مطابق روسی ٹینک ابھی بھی جورجیا کے اندر موجود ہیں۔ جمعہ کے روز امریکی صدر جارج بش نے کہا کہ جورجیا میں روسی کارروائیاں آزاد دنیا کو قابل قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس کو جورجیا سے اپنی فوج فوری طور پر واپس کرنا ہوگا۔ ٹیکسس میں اپنی رہائش گاہ پر انہوں نے کہا کہ دنیا کو اس بات پر تشویش ہے کہ روس نے اپنے خودمختار پڑوسی ملک پر حملہ کردیا ہے اور اس کے عوام کے ذریعے منتخب شدہ جمہوری حکومت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ جورجیا کے صدر میخیل سکاشویلی کے ہمراہ جمعہ کو جورجیا میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ روس کو فوری طور پر جورجیا سے اپنی افواج مکمل طور پر واپس کرے۔ تاہم جمعہ کی شب ملنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ روسی فوجیوں نے جورجیا کے اندر اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔ ادھر حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ روسی افواج جورجیا کے اندر کلسٹر بم کا استعمال کر رہی ہیں۔ کلسٹر بم بہت سے چھوٹے چھوٹے بموں کو ملاکر بنایا جاتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس نے زخمیوں اور ڈاکٹروں سے بات چیت کی اور بمباری کے فوٹو کی بنیاد پر یہ پتہ لگایا ہے کہ روسی فوج جورجیا میں کلسٹر بم کا استعمال کررہی ہے۔ جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے خبردار کیا تھا کہ اگر روس جورجیا میں ’جارحانہ‘ کارروائیوں سے باز نہیں آیا تو روس کے ساتھ امریکہ کے تعلقات برسوں کے لیے خراب ہوجائیں گے۔ تاہم امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ انہیں جورجیا میں امریکی افواج کی موجودگی کی ضرورت دکھائی نہیں دے رہی۔ گیٹس نے اپنا بیان ایسے وقت دیا جب روس کا کہنا تھا کہ جورجیا کی علاقائی سالمیت کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں گوری میں موڈ کی تبدیلی10 August, 2008 | آس پاس جورجیا: کئی حصوں پر روسی قبضہ11 August, 2008 | آس پاس روسی فوج جورجیا میں داخل ہوگئی11 August, 2008 | آس پاس ’جورجیا آپریشن‘ روکنے کا حکم: روس12 August, 2008 | آس پاس جورجیا اور روس معاہدے پر متفق13 August, 2008 | آس پاس روس کو امریکہ کی وارننگ14 August, 2008 | آس پاس جورجیا کو کنٹرول کی منتقلی شروع14 August, 2008 | آس پاس روس پر ’دراندازی‘ اور بمباری کا الزام10 August, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||