جورجیا کو کنٹرول کی منتقلی شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی افواج نےگوری شہر کے آس پاس کے علاقوں کا کنٹرول جورجیا کے سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنا شروع کردیاہے لیکن روس کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی اس علاقے میں فوجیں کچھ روز تک مزید رکیں گی۔ گوری کے علاقے میں تعینات ایک روسی جنرل کا کہنا ہے کہ علاقے کو ہتھیاروں سے خالی کرانے اور بموں کو ناکارہ بنانے کے لیے فوجیوں کو ابھی کچھ روز تک وہاں رکنا پڑےگا۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے گزشتہ رات ماسکو پر اس بات کے لیے زوردیا تھا کہ وہ جورجیا سے اپنی فوجیں پوری طرح واپس بلانے کے اپنے وعدے کو پورا کرے۔ جورجیا نے جنوبی اوسیٹیا کے شورش زدہ علاقے پرگوری سے ہی حملے شروع کیے تھے اور لڑائی کی حیثیت سے یہ شہر اب بھی مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ جنوبی اوسیٹیا میں حملے کے بعدروس نے پیر کو شہر پر فوجی کارروائی شروع کی، جس کے دوران شہر پر بھی بمباری کی گئی اور منگل کو فوجی کارروائی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔ گوری میں بی بی سی کے نامہ نگار جبرائیل گیٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ماسکو اس بات پر مصر ہے کہ اس کی موجودگی اس لیے ضروری ہے کہ مناسب طریقے سے کنٹرول جورجیا کے حوالے کیا جا سکے اور استمعال نہ کیے گئے گولہ بارود کو بھی وہاں سے ہٹایا جا سکے۔ اس دوران بدھ کی رات بھی بہت سے لوگوں کو دوسرے محفوظ مقامات پر منتقل ہوتے دیکھا گيا ہے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ روسی فوج کی موجودگی کے سبب لوٹ مار کرنے والے بھی شہر میں نظر نہیں آئے۔ جورجیا کی پولیس کو کنٹرول سونپنے میں مدد دینے والے روسی فوج کے جنرل نے مقامی لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو واپس آجائیں اور اپنی دکانیں اور کاروبار دوبارہ کھول لیں۔ | اسی بارے میں جورجیا: کئی حصوں پر روسی قبضہ11 August, 2008 | آس پاس گوری میں موڈ کی تبدیلی10 August, 2008 | آس پاس اوسیٹیا: مسئلے کا حل آسان نہیں09 August, 2008 | آس پاس جورجیا: قیامِ امن کیلیے مشترکہ مشن09 August, 2008 | آس پاس جورجیا لڑائی شدت اختیار کر گئی 09 August, 2008 | آس پاس روسی ٹینک جورجیا میں داخل ہو گئے 08 August, 2008 | آس پاس باغیوں کا محاصرہ، روس کی دھمکی08 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||