جورجیا: قیامِ امن کیلیے مشترکہ مشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جورجیا اور روس کے مابین علیحدگی اختیار کرنے والے صوبے اوسیٹیا کے معاملے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دور کرنے کے لیے امریکہ، یورپی یونین اور یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم ’او ایس سی ای‘ کا ایک وفد جورجیا روانہ ہو رہا ہے۔ اس وفد میں شامل سفارت کاروں کو امید ہے کہ وہ تین دن سے جاری اس لڑائی کو رکوانے میں کامیاب ہو جائیں گے جس کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق سینکڑوں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں اور بہت سے اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ امریکہ، یورپی یونین اور یورپ کی سلامتی اور تعاون کی تنظیم او ایس سی ای کے وفد کی سنیچر کی شام کو جورجیا میں آمد متوقع تھی۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ اس لڑائی میں بہت بڑی تعداد میں شہریوں کے ہلاک ہونے کا خطرہ ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار بریجٹ کینڈل کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپ سے اس مشترکہ وفد کو روس میں غیر جانبدار تصور نہیں کیا جائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ خطرہ اس بات کا ہے کہ روس اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں اپنے فوجی طاقت کا بھر پور مظاہرہ کرے گا اور اس بات پر زور دے کا کہ خطے کے نقشے کو تبدیل کیا جائے۔ ادھر روس کے طیاروں نے جورجیا میں کئی شہروں کو نشانہ بنایا ہے جن میں جورجیا کے مرکزی حصہ میں واقع گوری شہر بھی شامل ہے۔جورجیا کے حکام کے مطابق گوری شہر پر روس کے لڑاکا طیاروں کی بمباری میں ساٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں اکثریت شہریوں کی تھی۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ جورجیا کی فوجیں پسپا ہو کر اوسیٹیا سے باہر ان ہی جگہوں پر واپس چلی جائیں جہاں وہ جمعرات سے پہلے تعینات تھیں۔روسی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنوبی اوسیٹیا میں سینکڑوں کی تعداد میں شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ جورجیا روس کی طرف سے بتائی جانے والی اس تعداد کی نفی کرتا ہے اور آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔ روسی صدر دمتری میدادف کا کہنا ہے کہ روس جورجیا کو امن قائم کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دریں اثناء ایک اور علیحدگی اختیار کرنے والے صوبے ابخازیہ میں عیلحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ وہ جورجیا کی فوجوں پر کودری کی گھاٹی میں فضا اور توپ خانے سے حملے کر رہے ہیں۔ روس کے وزیراعظم ولادمیر پوتن نے اولمپکس کھیلوں سے واپسی پر شمالی اوسیٹیا میں قیام کے دوران کہا کہ اب جنوبی اوسیٹیا کے جورجیا میں ضم میں ہونے کے کم امکانات ختم ہو گئے ہیں۔ہمارے نامہ نگار کے مطابق جورجیا اسی ہی صورت حال سے بچنے کی بھرپور کوششیں کر رہا تھا۔ نیٹو میں روس کے سفیر دمتری رگوزن نے کہا ہے کہ جب تک جورجیا کی فوجیں اپنی جگہوں پر واپس نہیں چلی جاتیں جورجیا کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی۔ جنوبی اوسیٹیا پر قبضے کے بارے میں متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔ روس کا کہنا ہے کہ انہوں نے تشخنوالی کو آزاد کرا لیا ہے۔ یاد رہے کہ اوسیٹیا کا بحران اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب گزشتہ جمعرات کو جورجیا کی فوجوں نے جنوبی اوسیٹیا کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے اچانک حملہ کر دیا۔ جنوبی واسیٹیا نے انیس سو بانوے کی خانہ جنگی کے بعد عملاً آزادی کا اعلان کر رکھا تھا۔اس کے بعد روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں اور جورجیا کی فوجوں میں شدید لڑائی جاری ہے۔ |
اسی بارے میں جورجیا لڑائی شدت اختیار کر گئی 09 August, 2008 | آس پاس جورجیامیں روسی فضائی حملے09 August, 2008 | آس پاس جورجیا اور اوسیٹیا مسئلہ ہے کیا؟09 August, 2008 | آس پاس اولمپک وینیو، تبتیوں کا احتجاج09 August, 2008 | آس پاس اوسیٹیا: مسئلے کا حل آسان نہیں09 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||