BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 August, 2008, 23:15 GMT 04:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
روسی حملے کے دور رس نتائج: امریکہ
فائربندی کے وعدوں کے باوجود روسی ٹینک جورجیا میں موجود ہیں
فائربندی کے وعدوں کے باوجود روسی ٹینک جورجیا میں موجود ہیں

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس جورجیا میں ’جارحانہ‘ کارروائیوں سے باز نہیں آیا تو روس کے ساتھ امریکہ کے تعلقات برسوں کے لیے خراب ہوجائیں گے۔

تاہم امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ انہیں جورجیا میں امریکی افواج کی موجودگی کی ضرورت دکھائی نہیں دے رہی۔ گیٹس نے اپنا بیان ایسے وقت دیا ہے جب روس نے کہا ہے کہ جورجیا کی علاقائی سالمیت کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف نے کہا کہ جورجیا سے الگ ہونے والے علاقے اب کبھی بھی جورجیا کا حصہ بننے کے لیے راضی نہیں ہوں گے۔ اس سے قبل روس نے کہا تھا کہ وہ گوری شہر کو جورجیا کی پولیس کے حوالے کرنے کا کام شروع کردیا ہے تاہم اس کا اصرار ہے کہ روسی فوجی علاقے میں موجود رہیں گے۔

روس کے ایک فوجی جنرل نے کہا کہ ان کے فوجی گوری میں امن قائم کرنے اور علاقے سے ہتھیار ہٹانے کے لیے موجود ہیں۔ جورجیا کا گوری شہر جنوبی اوسیٹیا سے پندرہ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اور جورجیا کے دارالحکومت تبلیسی جانے کا اہم راستہ ہے۔

تبلیسی میں بی بی سی کی نامہ نگار نتالیہ انتالیوا کا کہنا ہے کہ روسی فوج اور جورجیا کی پولیس کی اس علاقے کی مشترکہ گشت کی ایک تجویز کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ ہماری نامہ نگار کے مطابق اس طرح کی اطلاعات بھی ہیں کہ روسی فوج کی گاڑیاں سیناکی شہر اور مغربی جورجیا میں بحیرہ اسود کے کنارے واقع پوٹی بندرگاہ پر گشت کرتی دیکھی گئی ہیں۔

ماسکو نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی لیکن روس کے ڈِپٹی چیف آف اسٹاف جنرل اناٹولی نوگووِٹسن نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ پوٹی بندرگاہ پر روسی کی موجودگی جائز ہے تاکہ انٹیلیجنس معلومات اکٹھی کی جاسکیں۔

جورجیا کے وزیر اعظم لاڈو گورگینِزڈا نے کہا کہ 100سے زائد روسی ٹینکوں کا قافلہ مغربی شہر زوگیڈڈی سے جورجیا کے کافی اندر داخل ہورہا ہے۔ لیکن بعد میں کئی اہلکاروں نے کہا تھا کہ روسی ٹینکوں کا یہ قافلہ واپس ہوگیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا کہ تمام خدشات کے باوجود کہ روس جورجیا سے جلد نہیں جانا چاہے گا، ایسا لگتا ہے کہ روسی واپس ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’لگتا ہے کہ وہ اپنی فوج واپس ابخازیہ کی جانب لے جارہے ہیں۔۔۔ لڑائی والے خطے جنوبی اوسیٹیا کی طرف۔‘

امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے وائس چیئرمین جنرل جیمز کارٹ رائٹ نے کہا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ روسی فائربندی کے معاہدے کی شرائط پر عمل کررہا ہے۔ وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا تھا کہ اگر روس جورجیا میں اپنی جارحانہ کارروائیاں نہیں ترک کرتا تو امریکہ اور روس کےتعلقات برسوں کے لیے منفی طور پر متاثر ہوسکتے ہیں۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے ماسکو پر اس بات کے لیے زوردیا تھا کہ وہ جورجیا سے اپنی فوجیں پوری طرح واپس بلانے کے اپنے وعدے کو پورا کرے۔ وزیر خارجہ رائس فرانس میں ہیں جہاں وہ صدر نکولا سرکوزی سے جورجیا کے تنازعے پر سفارتی کوششوں کے بارے میں بات چیت کر رہی ہیں۔

جورجیا نے جنوبی اوسیٹیا کے شورش زدہ علاقے پرگوری سے ہی حملے شروع کیے تھے اور لڑائی کی حیثیت سے یہ شہر اب بھی مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ جنوبی اوسیٹیا میں حملے کے بعدروس نے پیر کو شہر پر فوجی کارروائی شروع کی، جس کے دوران شہر پر بھی بمباری کی گئی اور منگل کو فوجی کارروائی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔

گوری میں بی بی سی کے نامہ نگار جبرائیل گیٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ماسکو اس بات پر مصر ہے کہ اس کی موجودگی اس لیے ضروری ہے کہ مناسب طریقے سے کنٹرول جورجیا کے حوالے کیا جا سکے اور استمعال نہ کیے گئے گولہ بارود کو بھی وہاں سے ہٹایا جا سکے۔

اس دوران بدھ کی رات بھی بہت سے لوگوں کو دوسرے محفوظ مقامات پر منتقل ہوتے دیکھا گيا ہے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ روسی فوج کی موجودگی کے سبب لوٹ مار کرنے والے بھی شہر میں نظر نہیں آئے۔

جورجیا کی پولیس کو کنٹرول سونپنے میں مدد دینے والے روسی فوج کے جنرل نے مقامی لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو واپس آجائیں اور اپنی دکانیں اور کاروبار دوبارہ کھول لیں۔

گوریآنکھوں دیکھا حال
جورجیا کے شہر گوری میں بدلتا ہوا ماحول
اوسیٹیا میں لڑائیاوسیٹیا میں لڑائی
لڑائی جلد روکنے کے لیے کوئی جادوئي چھڑی نہیں
لڑائی اور نقل مکانی
جنوبی اوسیٹیا کا بحران: تصویروں میں
اسی بارے میں
گوری میں موڈ کی تبدیلی
10 August, 2008 | آس پاس
روس کو امریکہ کی وارننگ
14 August, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد