BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 August, 2008, 02:19 GMT 07:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
روس کو امریکہ کی وارننگ
روسی فوجی
روسی صدر کے فوجی کارروائی روکنے کے اعلان سے کچھ دیر پہلے تک گوری کے قریب دھماکے سنائی دیے
امریکی صدر جارج بش نے روس کو وارننگ دی ہے کہ وہ جورجیا میں سیزفائر معاہدے پر عمل کرے ورنہ اسے عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا ہوگا۔

امریکی صدر نے کہا کہ روس جورجیا میں کارروائی کرکے حد سے تجاوز کرگیا ہے اور اسے فوری طور پر اپنی فوج جورجیا سے واپس بلالینا چاہیے۔

صدر بش نے کہا کہ امریکی بحریہ اور فوجی طیارے جورجیا کو امداد پہنچائیں گے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ روس کو اپنے عالمی تعلقات کا نقصان اٹھانا پڑا گا۔ صدر بش کے اس بیان پر روس نے کہا ہے کہ امریکہ کو ماسکو یا جورجیا کی قیادت سے اپنی پارٹنرشِپ میں سے کسی ایک کو چننا ہوگا۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف نے کہا: ’اس وقت یہ چننا ضروری ہوگا کہ اس عملی پراجیکٹ (جورجیا کی قیادت) کی حمایت کی جائے یا (روس سے) حقیقی پارٹنرشِپ کی۔‘

ماسکو میں بی بی سی کی نامہ نگار کیرولائن ویاٹ کا کہنا ہے کہ روس کے ردعمل سے لگتا ہے کہ وہ صدر بش کے بیان سے شدید نالاں ہے۔ نامہ نگار کے مطابق سرگئی لیوروف صدر بش پر اپنی تنقید کے ساتھ یہ بھی امید کررہے تھے کہ شاید امریکہ جورجیا کی عملی حمایت نہ کرے۔

امریکی صدر نے کہا ہے کہ امریکی فوجی طیارے جورجیا کو امداد مہیا کرینگے۔ امریکہ کا پہلا طیارہ طبی اور دیگر امداد لیکر جورجیا کے شہر تبلسی پہنچ گیا ہے۔

اس سے قبل جورجیا اور روس فرانسیسی صدر نکولا سرکوزی کی سفارتی کوششوں کے بعد جنگی کارروائیاں روکنے پر متفق ہوگئے ہیں۔ صدر بش نے اعلان کیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس صدر سرکوزی کے ساتھ فائربندی کے معاہدے پر روس کو راضی کرنے کے لیے پیرس جا رہی ہیں۔

نکولا سرکوزی نے روس اور جورجیا کے مابین اس بحران کو حل کرنے کے لیے معاہدے کا خاکہ تیار کرلیا ہے۔ جورجیا کے صدر میخائل شیخوالی کا کہنا تھا کہ کچھ شقیں نا قابل قبول ہیں جبکہ فرانسیسی ثالث کا بھی کہنا تھا کہ کچھ مشکلات سامنے آرہی ہیں۔

اس سے قبل روس کے صدر دمیتری میڈوڈیو نے جورجیا میں جاری فوجی کارروائی روکنے کا حکم دے دیا تھا۔ صدر میڈوڈیو نے حکام سے کہا کہ انہوں نے فوجی کارروائی روکنے کا حکم جنوبی اوسیٹیا میں شہریوں اور وہاں تعینات امن فوج کے اہلکاروں کا تحفظ یقینی بنانے کا بعد دیا ہے۔

جورجیا میں بی بی سی کے نامہ نگار جبرائیل گیٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ جنوبی اوسیٹیا میں لڑائی ختم ہوتی نظر آرہی ہے اور روسی فوجی اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تاہم سفارتی کوششوں اور بظاہر فوجیوں کے پیچھے ہٹنے کے باوجود دونوں طرف سے تند و تیز بیانات جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مکمل طور پر خطے امن و امان لوٹانے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔

تاہم روس نے جورجیا کی قیادت کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا اور فوری طور پر فریقین کے بیچ بات چیت کا امکان نظر نہیں آتا۔ روس کی طرف سے اس اعلان سے پہلے، جورجیا کے شہر گوری میں روسی طیاروں کے حملوں کی تازہ اطلاعات ملی تھیں۔ عینی شاہدوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک ہسپتال پر بم گرنے سے کئی لوگ ہلاک بھی ہوئے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے ایک رپورٹر نے بتایا کہ ان کی گاڑی کے سامنے کئی بم پھٹے۔ اسی ایجنسی کے ایک فوٹوگرافر نے بتایا کہ انہوں نے سڑکوں پر کئی لاشیں اور زخمی لوگوں کو دیکھا۔ بی بی سی کے نامہ نگارگیبری ایل گیٹ ہاؤس نےگوری کے قریب سے بتایا کہ شہر اور اس کے مضافات میں توپ کے گولے پھینکے گئے ہیں۔ گوری شہر جنوبی اوسیٹیا کے دارالحکومت سے دس مِیل دور ہے۔

نامہ نگار نے کہا کہ روس کے صدر کی طرف سے فوجی کارروائی بند کرنے کے اعلان سے کچھ دیر پہلے تک دھماکے سنائی دیے۔ انہوں نے کہا کہ گوری کے جنوب میں جورجیا کی تباہ شدہ فوجی گاڑیاں شہر سے باہر سڑک کے کنارے نظر آئیں۔

اس سے قبل جورجیا کے صدر میخائل شیخوالی نے یورپی یونین کے تجویز کردہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے تھے۔ میخائل شیخوالی کے علاوہ جنگ بندی کے معاہدے پر فرانس اور فن لینڈ کے وزرائے خارجہ نے بھی دستخط کیے تھے اور جورجیا کے صدر نے کہا تھا کہ دونوں یورپی وزرائے خارجہ ماسکو جائیں گے اور کوشش کریں گے کہ روس اس جنگ بندی پر راضی ہو جائے۔

امریکہ نے بھی جنوبی اوسیٹیا کے تنازعے پر جورجیا کے خلاف روسی فوجی کارروائی پر سخت تنقید کی تھی۔ جورجیا کے صدر میخائل شیخوالی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے امریکی نائب صدر ڈک چینی نے کہا کہ ’روس کی جارحیت کا جواب دیا جانا چاہیے۔‘

اوسٹیاجورجیا مسئلہ ہے کیا
جنوبی اوسیٹیا والے جورجیا سے آزادی چاہتے ہیں
اوسیٹیا میں لڑائیاوسیٹیا میں لڑائی
لڑائی جلد روکنے کے لیے کوئی جادوئي چھڑی نہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد