BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 August, 2008, 00:53 GMT 05:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فائربندی لیکن فوجی انخلاء نہیں‘
بحر اسود سے لیکر تبلیسی کے راستے میں روسی افواج کا قبضہ سنیچر کی شب بھی قائم تھا
بحر اسود سے لیکر تبلیسی کے راستے میں روسی افواج کا قبضہ سنیچر کی شب بھی قائم تھا

روس نے جورجیا کے ساتھ ایک امن معاہدے پر دستخط کر دیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ روسی افواج اس وقت تک جورجیا میں رہیں گیں جب تک اس کی ضرورت ہے۔

جمعہ کے روز جورجیا نے فائربندی کے معاہدے پر دستخط کیا تھا جس کے بعد سنیچر کو روس نے بھی دستخط کردیا لیکن روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف کا کہنا ہے کہ جب تک سکیورٹی کے مزید انتظامات نہیں ہوجاتے۔

دس روز قبل جنوبی اوسیٹیا کے علاقے پر پیدا ہونے والے تنازعے کے بعد روس نے جورجیا میں فوجی مداخلت کی تھی اور روسی ٹینک فائربندی کے معاہدے کے باوجود سنیچر کی شب جورجیا کے اندر موجود تھیں۔

امریکی صدر جارج بش نے اپنے مطالبے کے دہرایا ہے کہ روسی فوری طور پر فائربندی کے معاہدے کے تحت اپنی فوج جورجیا سے واپس بلالے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ فائربندی پر روس کی جانب سے دستخط کیا جانا ایک پرامید اقدام ہے۔

سنیچر کو امریکی صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تحت جنوبی اوسیٹیا اور ابخازیہ کے علاقے جورجیا کا حصہ ہیں اور جورجیا کا حصہ ہی رہیں گے۔ جمعہ کے روز روسی صدر ڈمیتری مڈیڈیوف نے کہا تھا کہ اب جو کچھ ہوچکا ہے اس کے پس منظر میں یہ کم ہی مکمن ہے کہ جنوبی اوسیٹیا اور ابخازیہ جورجیا میں شریک رہیں گے۔

 پولینڈ پر روسی ایٹمی حملے کی وارننگ کے بعد یوکرین کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اپنا میزائل وارننگ نظام یورپی ممالک کو دستیاب کرنے کو تیار ہے۔ اب تک اس نظام کا استعمال یوکرین اور روس نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔ یوکرین روس کا پڑوسی ملک ہے۔
سنیچر کی شب روسی فوج کا بحر اسود سے لیکر جورجیا کے دارالحکومت تبیلسی کے راستے پر لگ بھگ مکمل کنٹرول تھا۔ اس راستے پر سفر کرنے والے بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دارالحکومت تبلیسی سے تیس کلومیٹر قبل تک روسی کنٹرول ہے۔

ایک روسی فوجی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نے سوچا تھا کہ اس کا آخری پڑاؤ تبلیسی ہی ہوگا لیکن اب روسی حکومت نے اسے وہاں تک جانے سے روک دیا ہے۔ ایک دوسرے روسی فوجی نے بتایا کہ اسے لگتا ہے کہ اب انہیں جورجیا میں سال بھر رہنا پڑسکتا ہے۔

ادھر عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اس کے اہلکار جورجیا اور روس کا دورہ کرینگے تاکہ اندازہ لگایا جاسکے کہ لڑائی کی وجہ سے کتنا انسانی نقصان ہوا ہے اور امداد کیسے پہنچائی جائے۔

ادھر سنیچر کو روس نے پولینڈ کو وارننگ دی تھی کہ اگر وہ امریکہ کے ساتھ کیے جانے والے اپنے اس معاہدے پر عمل کرتا ہے جس کے تحت امریکی میزائل شیلڈ پولینڈ میں نصب کیا جانا ہے تو روس ایٹمی حملہ کرے گا۔ جمعہ کو پولینڈ اور امریکہ نے میزائل شیلڈ سے متعلق ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

پولینڈ پر روسی ایٹمی حملے کی وارننگ کے بعد یوکرین کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اپنا میزائل وارننگ نظام یورپی ممالک کو دستیاب کرنے کو تیار ہے۔ اب تک اس نظام کا استعمال یوکرین اور روس نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔ یوکرین روس کا پڑوسی ملک ہے۔

لیکن روس کے پڑوسی ملک جورجیا میں فوجی کارروائی کے بعد یوکرین کی حکومت نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنا میزائل وارننگ سِسٹم یورپی ممالک کو مہیا کرے گی۔ یوکرین کے صدر وِکٹر یوشچنکو نے کہا ہے کہ حالات غیرمعمولی ہیں اور ان سے لگتا ہے کہ یوکرین کو اپنا اقتداراعلیٰ بچانے کے لیے یورپی ممالک کے ساتھ مشترکہ سکیورٹی کا نظام قائم کرنا ہوگا۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جورجیا پر روسی حملے کے بعد یوکرین پریشان ہے کہ وہ مغرب کے ساتھ ملکر کام کرے۔ یوکرین نے روسی بحریہ کے جہاز بلیک سی فلیٹ کی نقل و حرکت محدود کردی ہے۔

ادھر سنیچر کی دیر رات گئے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جورجیا کے ساتھ فائربندی کے معاہدے کے باوجود روسی افواج بحر اسود سے لیکر تبلیسی کے راستے میں اپنا کنٹرول مضبوط کرنے میں مصروف تھیں۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف نے روسی افواج کے انخلاء کا کوئی ٹائم ٹیبل بتانے سے انکار کردیا ہے۔

ادھر جورجیا نے ابخازیہ کے علیحدگی پسندوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ جورجیا کے تین دیہاتوں پر اور پن بجلی کے ایک پلانٹ پر قبضہ کرلیا ہے۔ لیکن غیرجانبدار ذرائع سے اس الزام کی تصدیق نہیں کی جاسکی ہے۔

روسی افواج کے انخلاء سے انکار کے باوجود امریکی افسران نے کہا ہے کہ روسی وزیرخارجہ سرگئی لیوروف نے وعدہ ہے کہ ماسکو جورجیا کے دستخط شدہ جنگ بندی معاہدے کو’صدق دل‘ سے نافذ کرے گا۔

افسران کے مطابق انہوں نے یہ یقین دہانی اس وقت کروائی جب امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے جورجیا کے دورے کے بعد انہیں فون کیا۔ محترمہ رائس نے کہا تھا کہ روس فوری طور پر اپنی افواج واپس بلائے۔

ادھر جمعہ کو حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ روسی افواج جورجیا کے اندر کلسٹر بم کا استعمال کر رہی ہیں۔ کلسٹر بم بہت سے چھوٹے چھوٹے بموں کو ملاکر بنایا جاتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس نے زخمیوں اور ڈاکٹروں سے بات چیت کی اور بمباری کے فوٹو کی بنیاد پر یہ پتہ لگایا ہے کہ روسی فوج جورجیا میں کلسٹر بم کا استعمال کررہی ہے۔

اوسٹیاجورجیا مسئلہ ہے کیا
جنوبی اوسیٹیا والے جورجیا سے آزادی چاہتے ہیں
گوریآنکھوں دیکھا حال
جورجیا کے شہر گوری میں بدلتا ہوا ماحول
اوسیٹیا میں لڑائیاوسیٹیا میں لڑائی
لڑائی جلد روکنے کے لیے کوئی جادوئي چھڑی نہیں
لڑائی اور نقل مکانی
جنوبی اوسیٹیا کا بحران: تصویروں میں
اسی بارے میں
گوری میں موڈ کی تبدیلی
10 August, 2008 | آس پاس
روس کو امریکہ کی وارننگ
14 August, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد