ذمہ داری اب اوباما پر ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں تین ہفتے سے جاری اسرائیل کی فوجی کارروائی کو کون ختم کرائے گا؟ امریکہ کرا سکتا ہے لیکن بظاہر کرانا نہیں چاہتا، برطانیہ کرا نہیں سکتا کیونکہ اقوام عالم میں ایک تو اس کی اتنی حیثیت نہیں کہ اسرائیل زیادہ فکرمند ہو اور دوسرا یہ کہ وہ کوئی ایسی بات کہنے سے گریز کرتا ہے جو امریکہ کو ناگوار گزرے۔ دولت مند عرب شیخ اپنی عیش و آسائش کی زندگی میں کھوئے ہوئے ہیں، مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ، یورپی یونین، روس اور اقوام متحد یعنی ‘کوارٹیٹ’ کے خصوصی ایلچی ٹونی بلئیر اس مشکل کی گھڑی میں نا معلوم کہاں غائب ہیں، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون خوش آمد درآمد کر رہے ہیں لیکن بے نتیجہ، اور امدادی ایجنسیوں اور انسانی حقوق کے ادارے غصے اور مایوسی میں پیر پٹخ رہے ہیں لیکن ان کی کون سنتا ہے؟ تو پھر اسرائیل کے علاوہ میرے خیال میں یورپی یونین اور روس بچتے ہیں۔ روس خود اپنے پڑوسی ملک یوکرین سے نمٹنے اور شاید اسے سبق سکھانے میں لگا ہوا ہے اور یورپی یونین نے جب سے سنجیدگی سے مشرق وسطی کے مسئلے میں ہاتھ ڈالا ہے، کئی ایسے مواقع ضائع کیے ہیں جو تاریخ کا رخ بدل سکتے تھے۔
’دہشت گرد‘ حماس کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کو جب امریکہ نے تسلیم کرنے سے انکار کیا اور سزا کے طور پر تمام امداد اور فنڈز کی فراہمی روک دی گئی تو یورپی یونین کے پاس حماس کو نشانہ بنانے کے بجائے اس سے بات کرنے، اسے ایک لائف لائن فراہم کرنے اور ایک ایسے نظریاتی موقف پر آمادہ کرنے کا بہترین موقع تھا جس سے مشرق وسطی میں امن کی بنیاد پڑ سکتی تھی۔ لیکن مبصرین کے مطابق یورپی یونین ایک آزادانہ موقف اختیار نہ کرسکی۔ اگر اس وقت مغربی دنیا حماس کو ’اینگیج‘ کر لیتی، اسرائیل کو فوراً تسلیم کرنے کی پیشگی شرط نہ لگاتی اور حماس کی جانب سے طویل مدتی جنگ بندی کی پیش کش منظور کر لی جاتی تو حالات مختلف ہوسکتے تھے۔ حماس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنے وجود کی تمام بنیادوں کو بر سر اقتدار آتے ہیں ترک کردے، یہ نہ ہونا تھا اور نہ ہوا اور شاید مطالبہ کرنے والوں کو بھی اس کا علم ہوگا۔ اب تین ہفتے کی مسلسل بمباری میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں اور فلسطینیوں کے مصائب کا آخر نظر نہیں آتا۔ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے آپ جنگی جرائم کے زمرے میں رکھیں یا انسانی بحران کہیں، لیکن جو لوگ مشرق وسطیٰ کی سیاست کو سمجھتے ہیں وہ ایک بات پر متفق ہیں۔ اور وہ یہ کہ اسرائیل نے ان تین ہفتوں میں خود کش حملہ آوروں کی ایک نئی نسل تیار کر دی ہے۔ موجودہ لڑائی ہوسکتا ہے کہ چند دنوں میں ختم ہوجائے لیکن یہ بات قدرے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ خطہ میں تشدد کا دور جاری رہے گا۔ لہذا اسرائیل نے جنگ کے لیے اپنے جو مقاصد بیان کیے ہیں وہ کسی صورت حاصل ہوتے نظر نہیں آتے۔
امریکہ اور خود اسرائیل کو بھی اس بات کا علم تو ہوگا کہ خطےمیں جس پائیدار امن کی وہ بات کرتے ہیں، وہ حماس کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے افغانستان میں طالبان کوصرف فوجی قوت سے قابو نہیں کیا جاسکتا۔ برطانیہ یہ مانتا ہے، نیٹو کے کمانڈر مانتے ہیں بس امریکہ اتفاق نہیں کرتا۔ حماس کو بھی وقتی طور پر کمزور کیا جاسکتا ہے لیکن کسی ایسی تنظیم کا قلع قمع ممکن نہیں جس کا وجود عوام کی آرزؤں سے جڑا ہوا ہو۔ خود اسرائیلی حکومت کے اندر کچھ اختلافات کی خبریں ہیں۔ وزیر دفاع ایہود براک ایک ہفتے کی جنگ بندی کے حق میں ہیں لیکن وزیر اعظم ایہود اولمرٹ اس سےمتفق نہیں۔ اسرائیل پر راکٹ حملے کوئی نئی بات نہیں تو اس وقت اور اس شدت کےساتھ فوجی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا، اس بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل کو اس بات کی پہلے ہی بھنک لگ گئی تھی کہ امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما حماس سے بات چیت شروع کرنے کے حق میں ہیں؟ کیا اسرائیل نے اس امکان کے پیش نظر حماس کو کچلنے کی کوشش کی ہے؟ تاکہ اس تنازعہ کےتصفیہ میں حماس ایک با وزن فریق کے طور پر شامل نہ ہوسکے؟ دو ملکی نظریہ پر جب بھی سنجیدہ بات چیت ہوگی، اسرائیل کا شاید خیال ہے کہ وہ ہارڈ لائن حماس کے مقابلے میں فتح سے بہتر ڈیل حاصل کرسکے گا۔
معلوم نہیں کہ یہ بات درست ہے کہ نہیں لیکن ایک بات واضح ہے۔ گزشتہ تین ہفتوں میں اسرائیل نے صرف مقبوضہ علاقوں میں ہی نہیں مسلم دنیا میں اپنے دشمنوں کی تعداد بڑھائی ہے۔ جب ہر گھر میں ٹی وی پر ‘لایئو‘ جنگ اور معصوم بچوں کی لاشیں دیکھی جا رہی ہوں، تو یہ تو ہونا ہی تھا۔ ایسے مناظر سےان لوگوں کا کام آسان ہوجاتا ہے جو قانون اور انصاف کی باریکیوں میں نہیں پڑتے۔ بہر حال، اس فوجی کارروائی میں باراک اوبامہ کی مجوزہ پالیسی نے کوئی کردار ادا کیا ہو یا نہیں، صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اسرائیل کو قابو کرنے کی ذمہ داری انہیں کے کندھوں پر ہوگی۔ دنیا کی نگاہیں اس بات پر ہوں گی کہ وہ کس طرح اس صورتحال سے نمٹتے ہیں۔ لوگ ان کے موقف اور ان کے الفاظ کے انتخاب میں تبدیلی کے اس وعدے کے شواہد تلاش کریں گے جو انہوں نے دنیا سے کیا ہے۔ لیکن اگر موجودہ حکومت کی طرح ان کا پیغام بھی یہی رہا کہ ‘جب تک حماس۔۔۔‘ تو یہ واضح ہوجائے گا کہ دنیا میں امریکی صدر کی جلد کے رنگ کے علاوہ اور کچھ نہیں بدلے گا۔ |
اسی بارے میں غزہ: اقوام متحدہ کی عمارت، اسرائیلی بمباری 15 January, 2009 | آس پاس ہزار سے زائد ہلاک، فائر بندی کی کوششیں تیز15 January, 2009 | آس پاس ’وار آن ٹیرر کا خیال ایک غلطی‘15 January, 2009 | آس پاس ’اسرائیل فلسطینی بچوں کی حفاظت سے لاپروا‘14 January, 2009 | آس پاس غزہ:’نوے ہزار فلسطینی دربدر‘13 January, 2009 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||