غزہ:’نوے ہزار فلسطینی دربدر‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیشنل ریڈ کراس کے سربراہ جیکب کیلنبرجر غزہ میں اسرائیل فوجی کارروائی سے پیدا ہونے والے انسانی بحران کا مشاہدہ کرنے کےلیےغزہ پہنچ گئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون چند گھنٹوں میں علاقے میں پہنچنے والے ہیں۔ فلسطین کی ایک انسانی حقوق کی تنظیم المیزان نے کہا ہے کہ نوے ہزار لوگ اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے گھر چھوڑ گئے ہیں۔ تین ہفتوں سے جاری اسرائیلی آپریشن میں ابتک نو سو سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل جو ایک ہفتہ تک مشرق وسطیٰ میں رہیں گے اس دوران اسرائیل، فلسطین، شام، اور اردن کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ ادھر اسرائیل کی زمینی فوج غزہ کے مضافات کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے۔ حملے کے آٹھارویں روز بھی اسرائیلی طیاروں نے غزہ میں ساٹھ ٹارگٹ کو نشانہ بنایا۔ حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیل میں چالیس راکٹ اور مارٹر گولے داغے ہیں۔ اسرائیلی پولیس کے مطابق فلسطینی مارٹر گولوں سے کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ہے۔ پچھلے ہفتے انٹرنیشنل ریڈ کراس نے اسرائیل پر الزام لگایا تھا کہ وہ غزہ میں ’انسانی بحران‘ سے نمٹنے میں اپنے فریضہ انجام دینے میں ناکام رہا ہے۔ غزہ پر اسرائیلی فوجی کارروائی اٹھارہویں روز بھی قدر کم لیکن جاری رہی۔اسرائیلی فوج پہلی مرتبہ غزہ شہر کے اندرونی حصوں کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔ ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایک مرتبہ پھر جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کو غزہ میں لڑائی فوری طور پر ختم کر دینی چاہیے۔ اسرائیل اور حماس گزشتہ ہفتے سلامتی کونسل کی فوری جنگ بندی کی قرارداد کو رد کر چکے ہیں۔ بان کی مون کا کہنا تھا کہ ’میرا پیغام سادہ اور واضح ہے، جنگ رک جانی چاہیے۔ اس لڑائی میں بہت زیادہ لوگ مر چکے ہیں اور بڑے پیمانے پر انسانیت مشکلات کا شکار ہے‘۔بان کی مون غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں کے لیے بدھ کو مشرقِ وسطٰی کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔ منگل کو غزہ شہر میں اسرائیلی ٹینکوں اور بھاری مشین گنوں کی فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں اور اسرائیلی فوجیوں نے غزہ کے جنوبی اور مشرقی نواح میں مزید پیش قدمی کی ہے جبکہ شہر کے مغربی حصہ کو گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیل نے حماس کی جانب سے دو اسرائیلی ٹینکوں کی تباہی کے دعوے کو رد کر دیا ہے۔حماس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ شہر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل سے جنگ میں مصروف ہے۔ سوموار کو بھی رات گئے تک غزہ سے اسرائیلی علاقے پر قریباً تیس راکٹ پھینکے گئے۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً تین ہفتے سے جاری اس اسرائیلی فوجی آپریشن میں اب تک نو سو دس فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں دو سو بانوے بچے اور پچھہتر عورتیں بھی شامل ہیں۔ اسی دوران اسرائیل کے دس فوجی اور تین شہری بھی مارے گئے ہیں۔ اسرائیل نے تاحال بین الاقوامی صحافیوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ہے۔ امدادی اداروں کا بھی کہنا ہے کہ غزہ میں حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں اور غزہ کے پندرہ لاکھ رہائشیوں کو فوری طور پر خوراک اور ادویات پہنچانے کی ضرورت ہے تاہم انہیں امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک اکیس ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ دس لاکھ سے زائد افراد بجلی سے محروم ہیں۔
|
اسی بارے میں نو سو کے قریب ہلاکتیں، ریزرو فوج بھی میدان میں12 January, 2009 | آس پاس غزہ:’فاسفورس بموں کا استعمال‘11 January, 2009 | آس پاس غزہ میں کارروائی کے خلاف مظاہرے11 January, 2009 | آس پاس غزہ میں بمباری، مصر میں مذاکرات10 January, 2009 | آس پاس اسرائیل اور امریکہ پر شدید تنقید10 January, 2009 | آس پاس غزہ: امدادی کارروائی بحال، حملے جاری10 January, 2009 | آس پاس غزہ فائربندی کی قرار داد منظور09 January, 2009 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||