اسرائیل اور امریکہ پر شدید تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر نے امریکہ اور اسرائیل پر غزہ میں بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ سے شدید تنقید کی ہے۔ جنرل اسمبلی کے صدر میگوئیل ڈی ایسکوٹو براکمین نے اقوامِ متحدہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوم متحدہ کو یونائٹیڈ نیشنز یا اتحاد اقوام عالم ہونا چاہے نہ کہ ’سبجوگيٹيڈ نیشنز‘ یا ’پچھاڑی ہوئي اقوام۔‘ جنرل اسمبلی کے صدر اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا کتابچہ اور اسرائیل کی وزیر خارجہ تسیپی لیونی کے بیان کی نقل بھی اپنے ساتھ لائے تھے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر خارجہ کا بیان میڈیا کے سامنے پڑھا جس میں اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ اسرائیل کو غزہ میں فوجی کارروائی کے ذریعے اپنے بنیادی سفارتی مقاصد کے لیے وقت درکار ہے۔ جنرل اسمبلی کے صدر نے اسرائیل پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ’وقت درکار کس لیے؟ تاکہ وہاں بیگناہ لوگوں کی مزید ہلاکتیں ہوں، مزید تباہی ہو اور ان کے لیے مزید مصائب پیدا کیے جا سکیں۔‘ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیر خارجہ کے خیالات امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس کے ان الفاظ سے ملتے جلتے ہیں جو انہوں نے دو ہزار چھ میں لبنان میں اسرائیلی مداخلت کے دوران امریکہ کو وقت درکار ہونے کے متعلق کہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ پر حملوں کے موجودہ وقت کا تعین ناممکن بات نہیں کیونکہ وہ وہاں جو چاہتے تھے ہیں وہ صدر بش کے جانے سے پہلے پورا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر بش نے جتنا نقصان امریکہ کو پہنچایا ہے وہ اسکے دشمن بھی اسے نہیں پہنچا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کے اصولوں سے دھوکہ ہوا ہے۔ انہوں نے یروشلم میں یہودی مبلغوں کے ایک گروپ کی طرف سے اسرائیل کیخلاف غزہ کے حق میں مظاہرے کی ایک تصویر بھی میڈیا کو دکھائي۔ | اسی بارے میں غزہ: امدادی کارروائی بحال، حملے جاری10 January, 2009 | آس پاس اقوامِ متحدہ کی قراداد مسترد09 January, 2009 | آس پاس غزہ فائربندی کی قرار داد منظور09 January, 2009 | آس پاس سکیورٹی کونسل کی قرارداد کا متن09 January, 2009 | آس پاس ’میری بیوی، بیٹوں کی لاشیں گھر میں‘09 January, 2009 | آس پاس لبنان سے اسرائیل پر راکٹ فائر08 January, 2009 | آس پاس غزہ میں امدادی کام بند کرنے کا اعلان08 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||