| | اسرائیلی کارروائی کے دوران ساڑھے سات سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں |
غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان فائربندی سے متعلق اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 1860 کا متن حسب ذیل ہے: 1 سلامتی کونسل صورتحال کی نزاکت پر زور دیتے ہوئے فوری اور پائیدار فائربندی کا مطالبہ کرتی ہے جس کا پورا احترام کیا جائے تاکہ غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلاء ہوسکے۔ 2 سلامتی کونسل پورے غزہ میں انسانی امداد بشمول غذاء، تیل اور طبی امداد کی بغیر کسی رکاوٹ کے ترسیل اور تقسیم کا مطالبہ کرتی ہے۔ 3 سلامتی کونسل انسانی امداد کی بلا رکاوٹ تقسیم کے لیے انسانی امدادی راہداری اور دیگر طریقۂ کار کے قیام اور شروعات کے لیے کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کرتی ہے۔ 4 سلامتی کونسل رکن ممالک سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کریں جو غزہ میں انسانی اور اقتصادی صورتحال کی بہتری کے لیے کی جارہی ہیں، اور (فلسطینیوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے) یو این ڈبلیو آر اے اور ایڈ ہاک رابطہ کمیٹی کو بھی مزید امداد فراہم کریں۔ 5 سلامتی کونسل تمام دہشت گرد کارروائیوں اور شہریوں کے خلاف تمام تشدد اور لڑائیوں کی مذمت کرتی ہے۔ 6 سلامتی کونسل رکن ممالک سے اپیل کرتی ہے کہ پائیدار فائربندی اور امن کی کامیابی کے لیے غزہ میں انتظامات اور گارنٹیوں کی فراہمی کے لیے کوششوں میں تیزی کریں، ہتھیاروں اور بارود کی غیرقانونی منتقلی کو روکنے اور نقل و حرکت اور رسائی سے متعلق سن 2005 کے معاہدے کے تحت فلسطینی انتظامیہ (کے علاقوں) کے درمیان کراسِنگ پوائنٹوں کے مستقل کھولے جانے کو یقینی بنائیں، اور اس بارے میں (سکیورٹی کونسل) مصر کے اقدامات اور علاقائی اور عالمی سطح پر اس طرح کے دیگر اقدامات کا خیرمقدم کرتی ہے۔ 7 سلامتی کونسل باہمی مفاہمت کی جانب فلسطینیوں کے ٹھوس اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، (اور) مصر اور عرب لیگ کی مفاہمتی کوششوں کی بھی جن کا ذکر چھبیس نومبر دو ہزار آٹھ کی قرارداد میں ہے، اور جو کہ سن دو ہزار آٹھ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 1850 اور اس سے متعلق دیگر قراردادوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔ 8 سلامتی کونسل بین الاقوامی برادری اور فریقین سے تازہ اور فوری کوششوں کی اپیل کرتی ہے تاکہ اس علاقے سے متعلق اس وِژن پر مبنی وسیع تر امن قائم ہوسکے جس کے تحت اسرائیل اور فسلطین دو جمہوری ریاستیں پرامن طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر ساتھ ساتھ رہ سکیں، جن کے بارے میں سن دو ہزار آٹھ کی سکیورٹی کونسل قرارداد نمبر 1850 میں بات کی گئی ہے، (اور سکیورٹی کونسل) عرب امن مہم کو اہم سمجھتی ہے۔ 9 سلامتی کونسل ماسکو میں سن 2009 میں ایک عالمی امن کانفرنس کی فریقین سے مشاورت کے بعد کوارٹیٹ (امریکہ، روس، یورپی یونین اور اقوام متحدہ) کی تجویز کا خیرمقدم کرتی ہے۔
|