غزہ میں امدادی کام بند کرنے کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے غزہ میں امداد کی فراہمی کا کام روکنے کا اعلان کیا ہے جبکہ انٹرنیشنل ریڈ کراس نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ غزہ میں زخمی ہونے والے عام شہریوں کو طبی امداد فراہم نہیں کر رہا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس کے ایک قافلے پر اسرائیلی ٹینک سے گولہ داغا گیا جس سے دو افراد ہلاک ہوگئے۔ ایک ترجمان نے کہا کہ یو این کی نتصیبات پر کئی حملے کیے گئے ہیں اور اب امداد کی فراہمی اس وقت تک معطل رہے گی جب تک عملے کی حفاظت کی یقین دہانی نہیں مل جاتی۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعہ کی تفتیش کر رہی ہے۔ غزہ میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران کی تصویر جمعرات کو ریڈ کراس نے پیش کی۔ آئی سی آر سی نے غزہ میں زیتون کے علاقے میں اسرائیلی بمباری سے تباہ شدہ ایک مکان میں چار بھوکے، پیاسے اور سہمے ہوئے بچوں کو اپنی ماں کی لاش کے گرد بیٹھے ہوئے پایا۔ اسرائیلی فوج نے ریڈ کراس کے الزامات کا جواب دیے بغیر دعوٰی کیا ہے کہ وہ امدادی کارکنوں کے ساتھ مل کر شہریوں تک امداد پہنچانے کے لیے کام کر رہا ہے۔جمعرات کو بھی اسرائیلی فوج نے تین گھنٹے کا وقفہ دیا تاکہ غزہ کے لوگوں کو مدد فراہم کی جا سکے۔
آئی سی آر سی کے اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں میں آپریشن کے سربراہ پیری ویٹاچ نے کہا کہ اسرائیل اس ساری صورت حال سے بخوبی آگاہ ہے لیکن اس نے جان بوجھ کر زخمیوں کو امداد مہیا نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے انہیں اور فلسطینی حلال احمر کو بھی زخمیوں تک پہنچنے نہیں دیا۔ یہ دعوٰی ان خطرات کے پس منظر میں کیا گیا ہے کہ غزہ کا بحران دیگر علاقوں تک بھی پھیل سکتا ہے۔ جعمرات کو اسرائیل کے شمالی شہر پر لبنان کی طرف سے داغے گئے تین راکٹ گرے جس کے بعد اسرائیلی فوج نے بھی جوابی بمباری کی۔ بدھ اور جمعرات کی درمیابی رات اسرائیل نے گزشتہ بارہ روز سے جاری فوجی کارروائی کی بدترین بمباری کی اور ایک رات میں غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر ساٹھ کے قریب فضائی حملے کیئے گئے۔ اسرائیلی فوج اور پولیس کےحکام نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جمعرات کی صبح بتایا تھا کہ لبنانی علاقے سے اسرائیلی سرزمین پر چار راکٹ پھینکے گئے جن میں سے ایک شمالی اسرائیل کے قصبے نہاریا میں گرا جس سے دو افراد معمولی زخمی ہو گئے۔ لبنان کے علاقے سے داغے گئے راکٹوں کے جواب میں اسرائیلی توپ خانے نے لبنان پر بمباری کی ہے۔
یہ واضح نہیں کہ یہ حملہ حزب اللہ نے کیا ہے یا پھر اس کے پیچھے لبنان میں سرگرم فلسطینی گروہوں کا ہاتھ ہے۔ لبنانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ان راکٹ حملوں کے پیچھے کون ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے اسے خطے میں جاری حالیہ بحران کے لیے ایک انتہائی خطرناک موڑ قرار دیا ہے۔ بی بی سی کے مدیر برائے مشرقِ وسطٰی جیریمی بوئن کے مطابق ان راکٹ حملوں سے جنگ کے پھیل جانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ غزہ میں ہونے والی کارروائی کہیں شمال میں لبنان کے ساتھ اسرائیل کی سرحد تک نہ پھیل جائے۔ ادھر بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اسرائیل کی فضائیہ نے غزہ کی پٹی پر ساٹھ فضائی حملے کیے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان حملوں میں حماس کی پولیس کے دفاتر، سرنگوں، ہتھیاروں کے ذخیروں، راکٹ فائر کرنے والی جگہوں اور حماس کے ہتھیار بند کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا۔ فضائی حملوں کے علاوہ اسرائیلی فوج اور بحریہ کے توپ خانے سے بھی غزہ پر رات بھر بمباری جاری رہی۔ فلسطینی ذرائع نے کہا کہ فضائی حملوں میں غزہ شہر میں ایک مسجد تباہ ہو گئی۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج کے ٹینکوں نے جنہیں ہیلی کاپٹروں سے فضائی مدد حاصل تھی خان یونس کے علاقے کی طرف پیش قدمی کی ہے۔ گزشتہ بارہ دنوں سے جاری اس لڑائی میں سات سو کے قریب فلسطینی جن میں عورتوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ دوسری طرف اسرائیل فوج کے گیارہ فوجی بھی مارے گئے ہیں۔ اسرائیل کی سکیورٹی فورسز نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ ایک اعلی ترین دفاعی اہلکار آموس گیلاد جنگ بندی کی شرائط طے کرنے کے لیے قاہرہ جا رہے ہیں۔حماس کا ایک وفد بھی مصر کے سفیروں سے متوازی بات چیت کے لیے قاہرہ جانے والا ہے۔ اس کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کے رہنما محمود عباس بھی جمعہ کو قاہرہ پہنچ رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’زمینی کارروائی، اکیس بچے ہلاک‘05 January, 2009 | آس پاس حماس اور اسرائیل کے لیے کامیابی کامطلب کیا04 January, 2009 | آس پاس غزہ کارروائی، اسرائیل چاہتا کیا ہے؟05 January, 2009 | آس پاس سرکوزی مشرق وسطی کے دورے پر05 January, 2009 | آس پاس مقاصد کے حصول تک جنگ رہے گی: اسرائیل05 January, 2009 | آس پاس غزہ سے: ’ہم خوف کے سائے میں ہیں‘04 January, 2009 | آس پاس نیویارک:اسرائیل مخالف مظاہرہ04 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||