غزہ: اوباما کی خاموشی پرافسوس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں فلسطینی انتظامیہ کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما کے غزہ کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرنے سے انکار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نو منتخب صدر باراک اوباما نے بھارت کے شہر ممبئي میں بمباری پر تو فوری رد عمل کا اظہار کیا تھا لیکن غزہ کی صورتحال پر کچھ کہنے سے انکار کیا ہے۔ سیکرٹری جنرل بان کی مون نے غزہ میں تشدد روکنے کے لیے نیویارک میں اپنے دفتر میں عرب وزرائے خارجہ سے ملاقات کی ہے- فلسطینی وزیر خارجہ پیر کی صبح نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں سلامتی کونسل کے دفتر کے باہر صحافیوں کو عرب وزرائے خارجہ کی طرف سے اقوام متحدہ میں غزہ میں تشدد کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر بریفنگ دے رہے تھے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ غزہ میں جاری تشدد کے نتیجے میں اب تک ہلاک ہونیوالے افراد کی تعداد پانچ سو اور زخمیوں کی تعداد ڈھائی ہزار کو پہنچ چکی ہے جس میں مردوں اور عورتوں کی اکثریت کے علاوہ پچیس فیصد مرد عام شہری ہیں جبکہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں مسسلسل اضافہ ہورہا ہے کیونکہ زخيموں کو ہسپتالوں پہنچنے میں سخت مشکلات درپیش ہیں-
فلسطینی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے اس متوقع اجلاس میں فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس جو منگل کی صبح نیویارک پہنچ رہے ہیں فلسطین کا موقف بیان کریں گے۔ فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ وہ عرب وزرائے خارجہ کی طرف سے سلامتی کونسل کے لیے غزہ میں تشدد روکنے کی مجوزہ قرارداد کا مسوہ لائے ہیں اور اس مسودے میں اس سے کہیں زیادہ کا مطالبہ ہے جو اس وقت حماس مانگ رہا ہے- ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حماس راکٹ فائر کرکے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اسرائیل کو فائر بندی پر مجبور کرنا، غزہ میں حملے اور محاصرہ ختم کرنے پر مجبور کرنا اور سرحد پار علاقوں کی ناکہ بندی ختم کروانا چاہتا ہے اور یہی کچھ عرب وزرائے خارجہ سلامتی کونسل میں قرارداد کے ذریے حاصل کرنا چاہتے ہیں- اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی ترجمان مشل مونتاس نے نیویارک میں میڈیا کے اراکین کو دوپہر کی معمول کی بریفنگ کے دوران بتایا کہ سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیلی وزیر اعظم سے فون پر بات کی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری جنرل کی ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نے فون پر سیکرٹری جنرل سے بات چیت کے دوران غزہ پر اسرائيلی حملے روکنے کے بارے میں تو کوئي عندیہ نہیں دیا لیکن سیکرٹری جنرل کا غزہ میں اسرائیل کی جانب سے تشدد روکنے پر اصرار جاری رہا۔ مشل مونتاس نے پریس کو بتایا کہ سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اقوام متحدہ کے سیکٹریٹ کے تمام عہدیداروں اور متعلقہ افراد کی ایک ’ٹاؤن ہال میٹنگ‘ یا اجلاس بلایا جس میں انہوں نے غزہ میں جاری تشدد اور اسے روکنے کے لیے گزشتہ سنیچر کی شب سلامتی کونسل کے اجلاس میں شریک رکن ممالک کی طرف سے کسی بھی متفقہ بیان پر نہ پہنچ سکنے پر انتہائی رنج کا اظہار کیا-
ترجمان نے کہا کہ جنرل اسبملی کے صدر کو سلامتی کونسل کے بند اجلاس میں جانے کا استحقاق حاصل ہے کیونکہ سلامتی کونسل کا کام تنازعات کو مانٹیر کرنا اور امن قائم کرنا ہے۔ سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پیر کی سہ پہر اقوام متحدہ میں اپنے دفتر میں عرب وزرائے خارجہ سے بند کمرے میں ملاقات کی- سیکرٹری جنرل بان کی مون نے غزہ میں اسرائیل کے حملے اور حماس کے اسرائیل پر راکٹ حملے روکنے پر زور دیا۔ سیکرٹری جنرل کے ساتھ ملاقات میں مصر، لیبیا، لبنان، اردن اور مراکش کے وزرائے خارجہ اور اقوام متحدہ میں دیگر عرب رکن ممالک کے مستقل مندوب موجود تھے۔ پیر کی دوپہر غزہ سے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی یا ’انرا‘ کے سینیئر عملدار جان پنگ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں میڈیا اراکین سے وڈیو لنک پر پریس کانفرنس کے دوران غزہ میں لوگوں کو ’دہشت زدہ اور انتہائي خوفزہ‘ بتایا- انہوں نے کہا کہ غزہ میں لوگوں کے متعلق جو پہلا خیال آتا ہے وہ ہے ’خالی پن‘ یعنی سڑکیں اور راستے ویران ہیں جہاں ہو کا عالم ہے۔ لوگ گھروں میں تو ہیں لیکن چھپے ہوئے اور غیر محفوظ ہیں کیونکہ ان کے فرار ہونے کے لیے بھی کوئي جگہ نہیں‘۔ بہرحال غزہ سے اقوام متحدہ کے سینئر عملدار اس سوال کا جواب دینے سے قاصر تھے کہ غزہ میں محاصرے میں آئی ہوئي آبادی میں کتنی شہری آبادی ہے اور کتنوں کا تعلق حماس سے ہے۔ اقوام متحدہ میں بریفنگ کے دوران ’انرا‘ کے انڈر سیکرٹری جان ہومز اور غزہ سے جان پنک نے ایک صحافی کے اس سوال پر اپنی لاعلمی کا اظہار کیا کہ اسرائیل کی طرف سے عزہ پر کولسٹر بم اور فاسفورس بم بھی پھینکے گئے ہیں۔ تاہم جان ہومز نے کہا کہ کلسٹر اور فاسفورس بم گرائے جانا عالمی معاہدوں اور قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ | اسی بارے میں ’زمینی کارروائی، اکیس بچے ہلاک‘05 January, 2009 | آس پاس حماس اور اسرائیل کے لیے کامیابی کامطلب کیا04 January, 2009 | آس پاس غزہ کارروائی، اسرائیل چاہتا کیا ہے؟05 January, 2009 | آس پاس سرکوزی مشرق وسطی کے دورے پر05 January, 2009 | آس پاس مقاصد کے حصول تک جنگ رہے گی: اسرائیل05 January, 2009 | آس پاس غزہ سے: ’ہم خوف کے سائے میں ہیں‘04 January, 2009 | آس پاس نیویارک:اسرائیل مخالف مظاہرہ04 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||