BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 January, 2009, 03:19 GMT 08:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غزہ: اوباما کی خاموشی پرافسوس

بان کی مون
سیکرٹری جنرل نے غزہ میں تشدد روکنے کے لیے سنیچر کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں متفقہ بیان جاری نہ ہونے پر رنج کا اظہار کیا
نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں فلسطینی انتظامیہ کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما کے غزہ کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرنے سے انکار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نو منتخب صدر باراک اوباما نے بھارت کے شہر ممبئي میں بمباری پر تو فوری رد عمل کا اظہار کیا تھا لیکن غزہ کی صورتحال پر کچھ کہنے سے انکار کیا ہے۔

سیکرٹری جنرل بان کی مون نے غزہ میں تشدد روکنے کے لیے نیویارک میں اپنے دفتر میں عرب وزرائے خارجہ سے ملاقات کی ہے-

فلسطینی وزیر خارجہ پیر کی صبح نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں سلامتی کونسل کے دفتر کے باہر صحافیوں کو عرب وزرائے خارجہ کی طرف سے اقوام متحدہ میں غزہ میں تشدد کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر بریفنگ دے رہے تھے۔

دوسری طرف اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ غزہ میں جاری تشدد کے نتیجے میں اب تک ہلاک ہونیوالے افراد کی تعداد پانچ سو اور زخمیوں کی تعداد ڈھائی ہزار کو پہنچ چکی ہے جس میں مردوں اور عورتوں کی اکثریت کے علاوہ پچیس فیصد مرد عام شہری ہیں جبکہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں مسسلسل اضافہ ہورہا ہے کیونکہ زخيموں کو ہسپتالوں پہنچنے میں سخت مشکلات درپیش ہیں-

عرب وزرائے خارجہ کی کوشش
 حماس راکٹ فائر کرکے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اسرائیل کو فائر بندی پر مجبور کرنا، غزہ میں حملے اور محاصرہ ختم کرنے پر مجبور کرنا اور رفاعہ اور سرحد پار علا‍قوں کی ناکہ بندی ختم کروانا چاہتا ہے اور یہی کچھ عرب وزرائے خارجہ سلامتی کونسل میں قرارداد کے ذریے حاصل کرنا چاہتے ہیں
دریں اثناء توقع کی جارہی ہے کہ منگل کے روز نیویارک میں سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا جارہا ہے جس کے لیے فسلطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے امید ظاہر کی ہے کہ اس اجلاس میں فلسطین میں اسرائیل کی جارحیت اور تشدد روکنے کے لیے متفقہ قرارداد پیش اور منظور کی جائے گي۔

فلسطینی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے اس متوقع اجلاس میں فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس جو منگل کی صبح نیویارک پہنچ رہے ہیں فلسطین کا موقف بیان کریں گے۔

فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ وہ عرب وزرائے خارجہ کی طرف سے سلامتی کونسل کے لیے غزہ میں تشدد روکنے کی مجوزہ قرارداد کا مسوہ لائے ہیں اور اس مسودے میں اس سے کہیں زیادہ کا مطالبہ ہے جو اس وقت حماس مانگ رہا ہے-

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حماس راکٹ فائر کرکے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اسرائیل کو فائر بندی پر مجبور کرنا، غزہ میں حملے اور محاصرہ ختم کرنے پر مجبور کرنا اور سرحد پار علا‍قوں کی ناکہ بندی ختم کروانا چاہتا ہے اور یہی کچھ عرب وزرائے خارجہ سلامتی کونسل میں قرارداد کے ذریے حاصل کرنا چاہتے ہیں-

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی ترجمان مشل مونتاس نے نیویارک میں میڈیا کے اراکین کو دوپہر کی معمول کی بریفنگ کے دوران بتایا کہ سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیلی وزیر اعظم سے فون پر بات کی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری جنرل کی ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نے فون پر سیکرٹری جنرل سے بات چیت کے دوران غزہ پر اسرائيلی حملے روکنے کے بارے میں تو کوئي عندیہ نہیں دیا لیکن سیکرٹری جنرل کا غزہ میں اسرائیل کی جانب سے تشدد روکنے پر اصرار جاری رہا۔

مشل مونتاس نے پریس کو بتایا کہ سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اقوام متحدہ کے سیکٹریٹ کے تمام عہدیداروں اور متعلقہ افراد کی ایک ’ٹاؤن ہال میٹنگ‘ یا اجلاس بلایا جس میں انہوں نے غزہ میں جاری تشدد اور اسے روکنے کے لیے گزشتہ سنیچر کی شب سلامتی کونسل کے اجلاس میں شریک رکن ممالک کی طرف سے کسی بھی متفقہ بیان پر نہ پہنچ سکنے پر انتہائی رنج کا اظہار کیا-

جنرل اسمبلی کا افسوس
 جنرل اسمبلی کے صدر سمیت اقوام متحدہ کے سیکٹریٹ میں گزشتہ سنیچر کو سلامتی کونسل میں غزہ میں تشدد کے خاتمے پر عدم اتفاق پر افسوس پایا جاتاہے- لیکن جنرل اسبملی کے صدر کے ترجمان نے اس بات کی تردید کی کہ جنرل اسمبلی کے صدر گزشتہ سنیچر کی شب سلامتی کونسل کے بند اجلاس میں شریک پندرہ ارکین کو غزہ میں تشدد کے خاتمے کے بیان پر متفق ہونے پر قائل کرنے گئے تھے
ترجمان
اقوام متحدہ کی جنرل اسبملی کے صدر کے ترجمان نے بریفنگ کے دوران میڈیا کو بتایا کہ جنرل اسمبلی کے صدر سمیت اقوام متحدہ کے سیکٹریٹ میں گزشتہ سنیچر کو سلامتی کونسل میں غزہ میں تشدد کے خاتمے پر عدم اتفاق پر افسوس پایا جاتاہے- لیکن جنرل اسبملی کے صدر کے ترجمان نے اس بات کی تردید کی کہ جنرل اسمبلی کے صدر گزشتہ سنیچر کی شب سلامتی کونسل کے بند اجلاس میں شریک پندرہ ارکین کو غزہ میں تشدد کے خاتمے کے بیان پر اتفاق راۓ قائم کرنے پر قائل کرنے گئے تھے-

ترجمان نے کہا کہ جنرل اسبملی کے صدر کو سلامتی کونسل کے بند اجلاس میں جانے کا استحقاق حاصل ہے کیونکہ سلامتی کونسل کا کام تنازعات کو مانٹیر کرنا اور امن قائم کرنا ہے۔

سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پیر کی سہ پہر اقوام متحدہ میں اپنے دفتر میں عرب وزرائے خارجہ سے بند کمرے میں ملاقات کی- سیکرٹری جنرل بان کی مون نے غزہ میں اسرائیل کے حملے اور حماس کے اسرائیل پر راکٹ حملے روکنے پر زور دیا۔ سیکرٹری جنرل کے ساتھ ملاقات میں مصر، لیبیا، لبنان، اردن اور مراکش کے وزرائے خارجہ اور اقوام متحدہ میں دیگر عرب رکن ممالک کے مستقل مندوب موجود تھے۔

پیر کی دوپہر غزہ سے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی یا ’انرا‘ کے سینیئر عملدار جان پنگ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں میڈیا اراکین سے وڈیو لنک پر پریس کانفرنس کے دوران غزہ میں لوگوں کو ’دہشت زدہ اور انتہائي خوفزہ‘ بتایا-

انہوں نے کہا کہ غزہ میں لوگوں کے متعلق جو پہلا خیال آتا ہے وہ ہے ’خالی پن‘ یعنی سڑکیں اور راستے ویران ہیں جہاں ہو کا عالم ہے۔ لوگ گھروں میں تو ہیں لیکن چھپے ہوئے اور غیر محفوظ ہیں کیونکہ ان کے فرار ہونے کے لیے بھی کوئي جگہ نہیں‘۔

بہرحال غزہ سے اقوام متحدہ کے سینئر عملدار اس سوال کا جواب دینے سے قاصر تھے کہ غزہ میں محاصرے میں آئی ہوئي آبادی میں کتنی شہری آبادی ہے اور کتنوں کا تعلق حماس سے ہے۔

اقوام متحدہ میں بریفنگ کے دوران ’انرا‘ کے انڈر سیکرٹری جان ہومز اور غزہ سے جان پنک نے ایک صحافی کے اس سوال پر اپنی لاعلمی کا اظہار کیا کہ اسرائیل کی طرف سے عزہ پر کولسٹر بم اور فاسفورس بم بھی پھینکے گئے ہیں۔

تاہم جان ہومز نے کہا کہ کلسٹر اور فاسفورس بم گرائے جانا عالمی معاہدوں اور قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد