غزہ سے: ’ہم خوف کے سائے میں ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ کے باشندے اور بی بی سی کے نامہ نگار حمادہ ابو قمار نے غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائی کی روداد یوں بیان کی ہے: ’غزہ کی پٹی کے مرکز میں جہاں میں رہتا ہوں وہاں گزشتہ شب توپخانوں کی فائرنگ اور ہیلی کاپٹروں سے گولہ باری کی آوازیں آتی رہیں۔ میں اپنے بھائی کے گھر کی چھت سے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ خوفناک صورتحال تھی۔ میں اس علاقے کی گلیوں میں گیا۔ یہ گلیاں سنسان تھیں۔ ہم فضائی حملوں کے بارے میں فکرمند ہیں، اس لیے بھی کہ اسرائیلی نے ہمارے قریبی ایک خاندان کو وارننگ دی ہے کہ وہ ان کا گھر تباہ کرنے والے ہیں۔ ایک ہفتے قبل جب پہلی بار فضائی حملے ہوئے تو یہاں لوگ خوفزدہ ہوگئے تھے، ہر طرف افراتفری کا عالم تھا۔ اب کچھ لوگ اپنے گھروں کو خالی کررہے ہیں، بالخصوص ان علاقوں سے جہاں مساجد یا حماس کے کمپاؤنڈ ہیں۔ میں نے کچھ لوگوں کو جاتے ہوئے دیکھا ہے، وہ بیشتر پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے یہاں منتقل ہو رہے ہیں۔ اس نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں سب سے گھنی آبادی والے ایک کیمپ کے قریب ہی اسرائیلی ٹینک، خصوصی فورسز اور نشانہ باز موجود ہیں۔ اگر وہ کیمپ میں داخل ہوں، تو وہاں لوگ فکرمند ہیں کہ حالات مزید ابتر ہونگیں۔ میرے کزن کے دو بچے ہیں۔ اس کے گھر میں پندرہ سے زیادہ لوگ ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اس گھر میں ایک چھوٹا کمرہ ہے جس میں وہ سبھی رہتے ہیں اور خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ خوفزدہ ہیں۔ میرا ایک اور کزن اسی کیمپ میں رہتا ہے۔ ایک پڑوسی نے ریڈیو پر سنا کہ میرا کزن مارا گیا ہے لیکن میں اس کی تصدیق نہیں کرسکتا کیونکہ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ شمالی علاقوں میں فون لائنیں کام نہیں کررہی ہیں۔ یہ کافی مشکل حالات ہیں، لیکن ہم کیا کرسکتے ہیں؟ میں بی بی سی کے دفتر تک بھی نہیں جاسکتا ہوں۔ اسرائیلیوں نے غزہ کی پٹی کو تقسیم کردیا ہے۔ اس سے غزہ کے لوگوں کی زندگی مزید مشکل ہوجائے گی، بالخصوص اگر وہ ایک دوسرے سے رابطے میں رہنے کی کوشش کریں۔ ہم خوف کے ساتھ رہتے ہیں۔ کل پوری رات بمباری ہوتی رہی اور ہم سو نہیں سکے، کوئی راستہ بھی نہیں تھا کہ ہم اپنے رشتہ داروں سے رابطہ کرسکیں۔ جبالیہ پناہ گزیں کیمپ میں میری دو بہنیں رہتی ہیں اور وہ بھی اپنا گھر خالی کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ میں اپنے بچوں کو رونے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ وہ کھیلنے کی کوشش کریں۔ میں ابھی ان کے ساتھ ہی ہوں۔ میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ وہ جو کچھ بھی ہورہا ہے اسے نظر انداز کرسکیں۔ گزشتہ شب وہ کچھ دیر تک سوئے، لیکن بمباری کی آوازوں سے وہ جاگ جاتے تھے۔ میں اپنے بچے کو بتاتا تھا کہ بمباری ابھی دور ہے، لیکن وہ مجھے بتاتا کہ دو ہیلی کاپٹر ہمارے گھر کے اوپر ہیں۔ میرا بیٹا ابھی چھ سال کا ہے، لیکن وہ ہیلی کاپٹروں، ڈرون، ایف سولہ طیاروں، وغیرہ میں فرق سمجھتا ہے۔ اسرائیل ابھی غیرملکی صحافیوں کو گزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔‘ |
اسی بارے میں اسرائیلی حملوں میں شدت،توپخانے کا استعمال03 January, 2009 | آس پاس اسرائیلی زمینی حملہ روکنے کا مطالبہ03 January, 2009 | آس پاس ’اسرائیل زمینی حملے سے باز رہے‘03 January, 2009 | آس پاس نیویارک:اسرائیل مخالف مظاہرہ04 January, 2009 | آس پاس غزہ سے: ’ہم خوف کے سائے میں ہیں‘04 January, 2009 | آس پاس حماس اور اسرائیل کے لیے کامیابی کامطلب کیا04 January, 2009 | آس پاس لڑائی میں شدت،جنگ بندی اپیل پر عدم اتفاق04 January, 2009 | آس پاس غزہ تصاویر، اسرائیلی دعوؤں کی نفی04 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||