تیسرا انتفادہ ایک خواب یا حقیقت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی ببمبار حملوں سےغزہ کی گلیوں اور بازاروں میں موت کا رقص جاری ہے۔ اس شور میں حماس کے دمشق میں جلاوطن رہنما خالد مشعل کی انتفادہ کے لیے اٹھائی جانے والی آواز کہیں گم ہو چکی ہے۔ خالد مشعل نے ایک ٹی وی چینل سےگفتگو کرتے ہوئے غزہ پر بمباری کے بعد پہلا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت اور بربریت کے خلاف بھرپور مزاحمت کا عزم ظاہر کیا اور فلسطینوں سے متحد ہوکر تیسرا انتفادہ یعنی مزاحمتی تحریک شروع کرنے کی پر زور اپیل کی۔ انھوں نے کہا کہ جیسے پہلے اور دوسرے انتفادہ کی اپیل پر لبیک کرتے ہوئے تمام فلسطینی قدم بہ قدم چلتے ہوئے صہیونیت کے خلاف صف آراء ہوئے تھے، ایک بار پھر اسی جذبے کو آزمانے کا وقت آ گیا ہے کہ فلسطینیوں کو ایک بار پھر خون میں نہلایا جارہا ہے۔
مبصرین کے مطابق ان کا واضح اشارہ مغربی ملکوں کے حمایت یافتہ دھڑے الفتح سے اختلافات کی جانب تھا، جسے حماس کے مقابلے میں اعتدال پسند دھڑے کے طور پیش کیا جاتا ہے۔ عربی زبان میں انتفادہ جاگنے اور عوامی سطح پرمزاحمت اور شورش برپا کرنے کو کہتے ہیں۔ اسرائیلی تسلط کے خلاف انتفادہ تحریک کی پہلی کال الفتح تنظیم کے قائد یاسر عرفات نے 1987 میں دی تھی۔ اس وقت یہ آواز جبلیہ کیمپ سے شروع ہوکر غزہ سے غرب اردن اور وہاں سے یروشلم تک جاپہنچی۔جس کے بعد اسرائیلی ٹینکوں اور بھاری بھر کم گاڑیوں کا مقابلہ فلسطینی بچوں اور نوجونوان نے پتھروں اور کنکروں سے کرنا شروع کیا۔ دنیا بھر لوگوں نے یہ مناظر دیکھے کہ کیسے نہتے فلسطینیوں پر گولیاں برسائی جارہی ہیں۔ اس کے ساتھ سول نہ فرمانی کی تحریک بھی چلائی گئی۔ ایسے منظر فیصلہ ساز ایوانوں میں دیکھے اور سنے گئے۔
چنانچہ چھ برس چلنے والی انتفادہ تحریک 1993 میں اوسلو معاہدے پر منتج ہوئی۔ معاہدے کی تیاری اوسلو میں اور واشگٹن میں دستخط ہوئے اور اسے فلسطینی ریاست کے تعمیر کی پہلی اینٹ قرار دیا گیا۔ تاہم یہ کامیابی زیادہ دیرپا ثابت نہیں ہوسکی۔ بعد کے حالات جن کی طوالت کے باعث یہاں ذکر ممکن نہیں اور معاہدہ کرنے والے دوسرے فریق اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابین کی انتہا پسند یہودی کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد فلسطینی ریاست کا خواب ایک بار پھر دھندلا گیا۔ جولائی 2000 میں سابق صدر کلنٹن کے زیر سایہ ہونے والے کیمپ ڈیوڈ اجلاس سے ناکامیوں کا بوجھ لیے یاسر عرافات واپس رملہ پہنچے اور مایوسیوں کی بھیڑ میں دوسرے انتفا دہ کی کال دی۔ جیسے ’انتفادہ الاقصیٰ‘ بھی کہا جا تا ہے۔ فلسطینوں نے یکجا ہوکر ایکبار پھر تحریک کو قسام راکٹوں خود کش حملوں مظاہروں اور ہڑتالوں کے ذریعے آگے بڑھانا شروع کیا۔ تاہم اس دوران ہی مختلف فلسطینی گروپوں میں ہتھاروں کی ترسیل و فراہمی جیسے امور پر دراڑیں پڑنی شروع ہو گئیں۔ 2003 میں بش انتظامیہ کی جانب سے نقشہ راہ کے نام سے امن عمل کو بڑھانے کی کوششوں کا از سر نو آغاز ہوا۔ لیکن اس دوران فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ یاسر عرفات کو سیاسی اور مالی بد عنوانی کے الزامات میں الجھا کر غیر موثر بنادیا گیا۔
محمود عباس کی صورت میں الفتح کی نئی قیادت سامنے آنے کے بعد انتفادہ تحریک عملی طور پر غیر موثر ہوکر نہ صرف اپنی موت آپ مر گئی بلکہ فلسطینیوں کے اختلافات کی خلیج بھی وسیع تر ہوتی گئی۔ اب الفتح اعتدال پسند اور حماس انتہا پسند تنظیم کے طور پر سامنے آئیں۔ الفتح اور محمود عباس کو امن کی فاختہ کے طور پر سامنے لانے میں خود عرب ملک خصوصاً سعودی عرب اور مصر پیش پیش رہے اور یوں حماس تنہائی کا شکار ہوتی چلی گئی۔ 2006 کے انتخابات میں حماس کی واضح بر تری بھی اسے سیاسی تنہائی سے نہیں نکال سکی۔ اسے ایوان اقتدار سے دور رکھا گیا۔ اس وقت تک جب تک وہ اسرائیل کی شرائط پر اسے تسلیم کرنے پر رضا مند نہ ہو۔ اس کے نتیجے میں حماس غزہ اور الفتح غرب اردن تک سکڑ گئی۔ اس دوران اہل غزہ کو ضروریات زندگی کی اکثر اوقات بندش اور سرحدوں کی ناکہ بندی کے باعث گوناں گوں مصائب کا سامنا رہا۔ دوسری جانب غرب اردن میں شہریوں کو مغربی ملکوں کی حمایت کے باعث اس قسم کی مشکلات کا سامنا تو نہیں رہا۔ مگر سیاسی بساط یعنی نقشہ راہ پر عدم پیشرفت سے مایوسیوں میں اضافہ ہوا۔ ایسے منظرنامے میں جہاں دوسرا انتفادہ امن کی ثقافت کو فروغ دینے اور زمینی حقائق کو فلسطینیوں کے حق میں بہتر بنانے میں بری طرح ناکا م رہا۔ حماس کے رہنما خالد مشعل کی جانب سے فلسطینی گروپوں میں دھڑے بندیوں سے بالا تر ہوکر تیسرے انتفادہ کی اپیل فلسطینیوں کے ذہنوں کو کس حد تک متاثر کرسکے گی۔ اس امکان کو الفتح دھڑے کے رہنما صدر محمود عباس کے اس بیان کی روشنی میں دیکھنا ہوگا جو انھوں نے غزہ پر حملوں کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں دیا اور جس میں غزہ پراسرائیلی جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے ان کا کہنا تھا کہ ’اگر حماس راکٹوں سے اسرائیل پر حملے نہ کرتی تو اتنی بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں سے بچا جاسکتا تھا۔‘ ایسے میں یوں لگتا ہے کہ خالد مشعل کی جانب سے تیسرے انتفادہ کی بازی جیسے کسی ہاری ہوئی بساط پرکھیلنے کی کوشش کی جارہی ہو۔ |
اسی بارے میں غزہ میں جنگ بندی کا عالمی مطالبہ30 December, 2008 | آس پاس اسرائیل نے جنگ بندی کی عالمی اپیل رد کردی31 December, 2008 | آس پاس اسرائیلی حملے میں حماس رہنما ہلاک01 January, 2009 | آس پاس ’غزہ بمباری مہم کا پہلا مرحلہ ہے‘30 December, 2008 | آس پاس ’فریقین پرتشدد کارروائی روکیں‘29 December, 2008 | آس پاس اسرائیل کے فضائی حملوں کی ’مذمت‘29 December, 2008 | آس پاس ’فوجی کارروائی غزہ کا دیرپا حل نہیں‘29 December, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||