’فوجی کارروائی غزہ کا دیرپا حل نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل اور امریکہ غزہ پر تین دن سے جاری حملوں کو جوابی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ کارروائی اسرائیلی شہریوں کو حماس کے راکٹ حملوں سے بچانے لیے کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ حماس کی جانب سے داغے جانے والے راکٹ حملے کس قدر موثر ہوتے ہیں۔ آیا اسرائیل اتنے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے بعد حماس کی راکٹ مشینری کو غیر موثر کرنے میں کامیاب ہو جائےگا۔ ان سوالات کا جواب ڈھونڈنے کے لیے بی بی سی اردو کی ماہ پارہ صفدر نے غزہ میں کئی برس تک مقیم رہنے اور وہاں سے ایسے حملوں کی رپورٹنگ کرنے والے بی بی سی انگلش کے نامہ نگار ایلن جونسٹن سے گفتگو کی۔ ایلن جونسٹن کا کہنا تھا کہ اس میں شک نہیں حماس اور اسلامی جہاد جیسے گروپوں کو اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اگرچہ حماس جو راکٹ فائر کرتی ہے وہ کسی جدید فیکڑی میں نہیں بلکہ گھروں میں تیار کیے جاتے ہیں اور فوجی نکتہ نگاہ سے ان کی نقصان پہنچانے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ جیسا کہ گزشتہ ہفتے کوئی سو کے قریب راکٹ داغے گئے جس میں دو شہری ہلاک ہوئے مگر مسئلہ یہ ہے کہ راکٹ کسی بھی وقت اور کہیں بھی اسرائیلی شہریوں، سکول یا ہسپتال وغیرہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی شہری خود کو ہمہ وقت بہت غیر محفوظ تصور کرتے ہیں اور خوف کے محاصرے میں رہتے ہیں۔ ایلن جانسٹن کا کہنا تھا کہ ہمیشہ کی طرح اسرائیل نے اس مرتبہ بھی حماس کو انتہائی سختی سے کچلنے کی کوشش کی ہے اور جوابی فوجی کارروائی حماس کے راکٹوں سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں اور اکثر فلسطینوں اور اسرائیل کے درمیان فوجی کارروائی میں کوئی توازن نہیں ہوتا۔ اس سوال کے جواب میں کہ حماس بخوبی یہ سمجھتی ہے کہ اسرائیل سے فوجی ٹکر نہیں لی جا سکتی تو اس نے اسرائیل کی جانب سے پیش کش کے باوجود مصر کی مصالحت کاری کے نتیجے میں چھ ماہ سے جاری فائر بندی کی مدت میں توسیع کیوں نہیں کی، ایلن جانسٹن کا کہنا تھا کہ چھ ماہ کی فائر بندی کے دوران حماس نے یہ دیکھا کہ اس کے حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ نہ اس کی سرحدوں کا محاصرہ ختم کیا گیا، نہ ہی اس کی غذائی اشیاء کی رسد بحال ہوئی اور نہ سیاسی راستے پر کوئی پیش رفت ہو سکی۔
تاہم ایک موقف یہ بھی ہے کہ حماس نے چھ ماہ کی فائر بندی پر آمادگی خود کو قدرے مجتمع کرنے اور صف بندی کی لیے ظاہر کی تھی ورنہ حماس اسرائیل کو اپنی سرزمین پر قابض کے طور پر دیکھتی ہے اور اس سے کسی قسم کی مصالحت اس کے لیے ممکن نہیں۔ تو کیا غزہ پر حملہ سے حماس کی راکٹ داغنے کی صلاحیت کو غیر موثر بنانا ممکن ہو سکے گا۔ اس سوال پر ایلن جانسٹن نے کہا کہ ’یہ شاید بہت ہی مشکل بلکہ ناممکن ہو۔ اسرائیل کئی برسوں سے اس کی کوشش کر رہا ہے مگر نہیں کر سکا۔گو کہ اسرائیل کے بغیر پائلٹ کے جہاز ہر لمحہ غزہ پر کڑی نگاہ رکھتے ہیں مگر پھر بھی ان کے لیے ہر راکٹ حملے کو روکنا عملی طور پر ناممکن ہے۔ حماس کے سرگرم کارکن چند منٹ کے اند اندر راکٹ اسمبل کر کے فائر کرتے ہیں اور گلیوں میں کہیں غائب ہوجاتے ہیں‘۔ ایلن جونسٹن نے کہا کہ اپنے غزہ کے قیام دوران انہوں نے خود دیکھا کہ جس وقت اسرائیلی فوج اپنی مکمل کارروائی کر رہی ہوتی تھی اس دوران بھی راکٹ فائر کر دیے جاتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حماس کے کارکنوں کو اپنی جان جانے کی فکر نہیں ہوتی اور جب تک حماس کے پاس یہ عزم ہے اسرائیل کے لیے راکٹ حملے روکنا ناممکن ہوگا۔ ایلن جونسٹن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کی نوعیت اس قدر شدید ہے اور اتنی بڑی تعداد میں جانوں کا ضیاع ہوا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کو دم لینے کے لیے کچھ مہلت اور کچھ وقفہ چاہیے ہوگا۔ اس لیے اسرائیلی حملہ شاید کچھ وقت کے لیے راکٹوں کے خطرے کو ٹال سکے گا مگر اسرائیل بخوبی سمجھتا ہے کہ فوجی کارروائی اس تنازعہ کا بہت ہی عارضی حل ہوگا۔ اس خطے میں دیرپا امن کے خواب کو حقیت بنانے کے لیے سیاسی راہ ہی اختیار کرنی ہوگی۔ |
اسی بارے میں انسانیت کا مظاہرہ کریں: پوپ28 December, 2008 | آس پاس محاصرے سے موت اچھی ہے28 December, 2008 | آس پاس بدترین حملے : اسرائیل کے مقاصد28 December, 2008 | آس پاس اسرائیل غزہ حملے بند کرے: مصر28 December, 2008 | آس پاس اسرائیلی حملوں پر ردِ عمل27 December, 2008 | آس پاس اسرائیلی میزائل، 230 سے زائد فلسطینی ہلاک27 December, 2008 | آس پاس پوپ کی مشرق وسطیٰ امن کی اپیل25 December, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||