اسرائیلی میزائل، 230 سے زائد فلسطینی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی طرف سے غزہ پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور فلسطینی حکام کے مطابق ان حملوں میں بے گناہ عورتوں اور بچوں سمیت دو سو تیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہفتے کی صبح شروع ہونے والے ان حملوں جن میں لڑاکا طیاروں کا استعمال بھی کیا گیا سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے جن میں بہت سوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ غزہ پر اسرائیلی فوج کارروائی پر پوری دنیا سے فوری رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔ غزہ میں حماس کے رہنما اسماعیل حانیہ نے اسرائیل پر فلسطینیوں کے قتل عام کا الزام عائد کیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کے وزیر دفاع ایہود باراک نے کہا ہے کہ غزہ پر فضائی حملوں کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حماس کی طرف سے اسرائیل علاقوں پر راکٹ داغے جانا بند نہیں ہو جاتا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے فوجی دباؤ بڑھانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ وہ زمینی حقائق کو اپنے حق میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی شرائط پر جنگ بندی مسلط کر سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں اسرائیل کا غزہ پر یہ شدید ترین حملہ ہے جس میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ طبی ذرائع کے مطابق زخمیوں کی تعداد سات سو کے قریب ہے اور اسرائیلی وزیراعظم ایہود المرات نے کہا ہے کہ کارروائی ہو سکتا ہے کچھ عرصے اور جاری رہے لیکن انسانی بحران سے بچنے کی کوشش کی جائے گی۔ غزہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ایف سولہ بمبار طیاروں نے غزہ پر مسلسل کئی میزائل حملے کیے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق اسرائیل کی طرف سے تقریباً بیس میزائیل فائر کیے گئے۔ اسرائیل نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے فلسطینی شدت پسندوں کی طرف سے اسرائیلی شہروں پر راکٹ حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ حماس نے بھی فوری طور پر رد عمل میں کہا ہے کہ ان حملوں کے جواب میں اسرائیل میں حملے کیے جائیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ ان حملوں کے بعد فلسطینی شدت پسندوں نے جنوبی اسرائیل میں راکٹ فائر کیے جن سے ایک عورت ہلاک ہو گئی۔ حملے سے قبل حماس نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے غزہ پر حملہ کیا تو وہ اس پر جہنم کے دروازے کھول دے گی۔ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے اسرائیلی کارروائی کی مذمت کی ہے اور حماس کو تحمل سے کام لینے کے لیے کہا ہے۔
اس سے قبل عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ غزہ کے اندر اور آس پاس کے علاقوں میں مسلسل دھماکے سنے گئے اور طبی ذرائع اور حماس کے حکام کے مطابق ان حملوں میں کم سے کم ایک سو پچانوے افراد ہلاک اور چار سو زخمی ہوئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ غزہ میں پولیس کے سربراہ توفیق جابر بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔ حماس کے زیر انتظام کام کرنے والے الاقصیٰ ٹیلی ویژن نے کہا کہ ’صیہونی بمباری سے غزہ میں سکیورٹی کے زیادہ تر صدر دفاتر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں‘۔ حماس کے دفاتر کے احاطے سے جاری ہونے والی تصاویر میں ہلاک اور زخمی ہونے والے سکیورٹی افسران خون میں لت پت گرے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اس سے قبل خبررساں ادارے رائٹرز نے بتایا تھا کہ غزہ میں ایک سو بیس لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور خان یونس میں بھی تئیس لوگ مارے گئے۔ ہلاکتوں کی تعداد اب بڑھ کر ایک سو پچپن ہوگئی ہے۔ فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے غزہ شہر کے وسط میں واقع ان سکیورٹی اہداف کو میزائلوں سے نشانہ بنایا جن کا تعلق شدت پسند گروپ حماس سے بتایا جاتا ہے۔ اسرائیلی اور فلسطینی شدت پسندوں کے مابین فائر بندی کا معاہدہ گزشتہ ہفتے اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ختم ہو چکا ہے۔ یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار پال وڈ نے کہا کہ اسرائیلی سکیورٹی حکام بریفنگ دے رہے ہیں جس کے مطابق ان میزائیل حملوں کے بعد غزہ میں بڑی کارروائی کا امکان بھی ہے۔ |
اسی بارے میں غزہ، ایندھن کی جزوی فراہمی11 November, 2008 | آس پاس غزہ: الفتح کے درجنوں حامی گرفتار26 July, 2008 | آس پاس غزہ دھماکہ، بچی سمیت پانچ ہلاک25 July, 2008 | آس پاس غزہ کا راستہ کھولنے کا فیصلہ29 June, 2008 | آس پاس غزہ سرحد ایک بار پھر بند26 June, 2008 | آس پاس غزہ: اسرائیلی حملے میں پانچ ہلاک24 May, 2008 | آس پاس غزہ: بچوں سمیت پانچ ہلاک28 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||