BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 December, 2008, 10:55 GMT 15:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیلی میزائل، 230 سے زائد فلسطینی ہلاک
غزہ
غزہ کے اندر اور آس پاس کے علاقوں میں مسلسل دھماکے سنے گئے

اسرائیل کی طرف سے غزہ پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور فلسطینی حکام کے مطابق ان حملوں میں بے گناہ عورتوں اور بچوں سمیت دو سو تیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ہفتے کی صبح شروع ہونے والے ان حملوں جن میں لڑاکا طیاروں کا استعمال بھی کیا گیا سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے جن میں بہت سوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

غزہ پر اسرائیلی فوج کارروائی پر پوری دنیا سے فوری رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔

غزہ میں حماس کے رہنما اسماعیل حانیہ نے اسرائیل پر فلسطینیوں کے قتل عام کا الزام عائد کیا ہے۔

دوسری طرف اسرائیل کے وزیر دفاع ایہود باراک نے کہا ہے کہ غزہ پر فضائی حملوں کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حماس کی طرف سے اسرائیل علاقوں پر راکٹ داغے جانا بند نہیں ہو جاتا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے فوجی دباؤ بڑھانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ وہ زمینی حقائق کو اپنے حق میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی شرائط پر جنگ بندی مسلط کر سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں اسرائیل کا غزہ پر یہ شدید ترین حملہ ہے جس میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

طبی ذرائع کے مطابق زخمیوں کی تعداد سات سو کے قریب ہے اور اسرائیلی وزیراعظم ایہود المرات نے کہا ہے کہ کارروائی ہو سکتا ہے کچھ عرصے اور جاری رہے لیکن انسانی بحران سے بچنے کی کوشش کی جائے گی۔

غزہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ایف سولہ بمبار طیاروں نے غزہ پر مسلسل کئی میزائل حملے کیے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق اسرائیل کی طرف سے تقریباً بیس میزائیل فائر کیے گئے۔

اسرائیل نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے فلسطینی شدت پسندوں کی طرف سے اسرائیلی شہروں پر راکٹ حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ حماس نے بھی فوری طور پر رد عمل میں کہا ہے کہ ان حملوں کے جواب میں اسرائیل میں حملے کیے جائیں گے۔

بتایا گیا ہے کہ ان حملوں کے بعد فلسطینی شدت پسندوں نے جنوبی اسرائیل میں راکٹ فائر کیے جن سے ایک عورت ہلاک ہو گئی۔

حملے سے قبل حماس نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے غزہ پر حملہ کیا تو وہ اس پر جہنم کے دروازے کھول دے گی۔

فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے اسرائیلی کارروائی کی مذمت کی ہے اور حماس کو تحمل سے کام لینے کے لیے کہا ہے۔

اسرائیلی حملے
خدشہ ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے

اس سے قبل عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ غزہ کے اندر اور آس پاس کے علاقوں میں مسلسل دھماکے سنے گئے اور طبی ذرائع اور حماس کے حکام کے مطابق ان حملوں میں کم سے کم ایک سو پچانوے افراد ہلاک اور چار سو زخمی ہوئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ غزہ میں پولیس کے سربراہ توفیق جابر بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

حماس کے زیر انتظام کام کرنے والے الاقصیٰ ٹیلی ویژن نے کہا کہ ’صیہونی بمباری سے غزہ میں سکیورٹی کے زیادہ تر صدر دفاتر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں‘۔ حماس کے دفاتر کے احاطے سے جاری ہونے والی تصاویر میں ہلاک اور زخمی ہونے والے سکیورٹی افسران خون میں لت پت گرے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

اس سے قبل خبررساں ادارے رائٹرز نے بتایا تھا کہ غزہ میں ایک سو بیس لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور خان یونس میں بھی تئیس لوگ مارے گئے۔ ہلاکتوں کی تعداد اب بڑھ کر ایک سو پچپن ہوگئی ہے۔

فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے غزہ شہر کے وسط میں واقع ان سکیورٹی اہداف کو میزائلوں سے نشانہ بنایا جن کا تعلق شدت پسند گروپ حماس سے بتایا جاتا ہے۔

اسرائیلی اور فلسطینی شدت پسندوں کے مابین فائر بندی کا معاہدہ گزشتہ ہفتے اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ختم ہو چکا ہے۔

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار پال وڈ نے کہا کہ اسرائیلی سکیورٹی حکام بریفنگ دے رہے ہیں جس کے مطابق ان میزائیل حملوں کے بعد غزہ میں بڑی کارروائی کا امکان بھی ہے۔

غزہغزہ کی ناکہ بندی
غزہ: ’بد ترین حالات‘، عرب ممالک پر تنقید
’ناتجربہ کار‘ لیونی
موساد کی ایجنٹ قدیمہ کی سربراہ
 اسرائیل کے پہلے وزیرِ اعظم ڈیوڈ بین تقسیم کے ساٹھ سال
فلسطینی پناہ گزین آج بھی انتظار میں ہیں
’لبنان جنگجنگ کیوں کی؟
’لبنان جنگ ایک بڑی اور سنگین ناکامی‘
نو آبادیاں جاری
مشرقی یروشلم میں تعمیر جاری رہے گی
ایریہ ہینڈلراسرائیل کے ساٹھ سال
میں وہاں موجود تھا: 93 سالہ ایریہ ہینڈلر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد