پوپ کی مشرق وسطیٰ امن کی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پوپ بینیڈکٹ نے کرسمس کے خطاب میں مشرق وسطیٰ میں ’نفرت اور تشدد‘ کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ ویٹکن میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مابین امن کے لیے نئی کوشش پر زور دیا۔ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے نئی کوشش پر زور دیتے ہوئے پوپ نے کہا کہ دعا مانگو کہ ’دلوں سے نفرت ختم ہو تاکہ سرحدیں بھی کھل سکیں۔‘ پوپ نے بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے پر بھی زور دیا۔ ’ہمیں ان بچوں کا بھی سوچنا چاہیے جن کو گھر والوں کی شفقت نصیب نہیں ہے اور ان کو پرتشدد کارروائیوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا ’ہمیں ان بچوں کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے جو فحش فلموں کی صنعت کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔‘ پوپ اگلے سال مئی میں اردن، اسرائیل اور فلسطینی علاقے کا دورہ کریں گے۔ دوسری طرف مغربی کنارے کے شہر بیت اللحم میں عیسائیوں نے کرسمس تقریبات کا آغاز کیا۔ ان عیسائیوں میں دو سو عیسائی غزہ کے بھی تھے جن کو اسرائیل نے خاص اجازت نامے کے تحت تقریبات میں حصہ لینے کے لیے سفر کی اجازت دی۔ بیت اللحم، رملہ اور جریکو میں فلسطینی سکیورٹی غیر معمولی تھی۔ لوگ نیٹویٹی چرچ کے باہر جمع تھے جس کے بارے میں روایتی طور پر کہا جاتا ہے کہ یسوع مسیح یہاں پیدا ہوئے تھے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق نیٹویٹی چرچ کے باہر کینیڈا، برطانیہ، بھارت اور امریکہ سے آئے ہوئے عیسائی کرسمس کے گیت گا رہے تھے۔ امریکہ سے آئے ہوئے ڈیوڈ بچوں کو بتا رہے تھے ’یسوع مسیح امن کے شہزادے تھے اور وہ ہی تم میں بھی امن لا سکتے ہیں۔ ہم تمہارے لیے دعاگو ہیں۔‘ |
اسی بارے میں فلسطین کی امداد، عربوں سے اپیل02 May, 2008 | آس پاس ایران اور شام سے دور رہیں: بش18 May, 2008 | آس پاس دنیا سیاسی جبر کا شکار:ایمنسٹی28 May, 2008 | آس پاس محمود عباس کا بُش پر تعصب کا الزام19 May, 2008 | آس پاس پیرس اجلاس کے معاہدے پر اختلاف15 July, 2008 | آس پاس مشرق وسطٰی تنازعہ ، تصفیہ ’قریب‘13 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||