BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 May, 2008, 12:04 GMT 17:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلسطین کی امداد، عربوں سے اپیل
فلسطین
امداد کے کل وعدوں کا صرف بیس فیصد امداد فراہم کی گئی
مشرقِ وسطی امن عمل میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے کوارٹٹ، چوگانہ نے عرب ملکوں سے فلسطین کے امداد کے وعدے پورے کرنے کی اپیل کی ہے۔

یہ اپیل لندن میں چوگانہ، اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین اور روس کے مذاکرات کے بعد جاری کی گئی ہے۔

اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ عرب اقوام نے اپنے وعدوں کے برخلاف گزشتہ دسمبر تک صرف پانچواں حصہ امداد فراہم کی۔

چوگانہ نے تشدد کے حالیہ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ نوآبادیاتی سرگرمیاں بند کرنے اور فلسطین کو تشدد پر قابو پانے کے لیے کہا ہے۔

گروپ نے اس ضمن میں ’دونوں جانب سے کیے جانے والے ٹھوس اقدام‘ کا خیر مقدم کیا ہے، جن میں اسرائیل کی جانب سے سڑکوں پر رکاوٹوں کا ختم کرنا اور فلسطین کی جانب سے سیکیورٹی میں بہتری شامل ہیں۔ تاہم اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ ’ابھی مزید بہت کچھ ہونا باقی ہے‘۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے بھی کہا تھا کہ عرب ممالک کو فلسطینیوں کی مدد کرنے میں زیادہ دلچسپی لینی چاہیے۔

امریکی وزیرخارجہ نے کسی ملک کا نام تو نہیں لیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ عرب ملکوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ فلسطین کی زیادہ سے زیادہ مدد کیسے کر سکتے ہیں، کم سے کم نہیں۔

کونڈولیزا رائس مشرقِ وسطیٰ پر مذاکرات میں شرکت کے لیے لندن پہنچی تھیں۔ انہوں نے عرب ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

کونڈولیزا رائس برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مشرق وسطیٰ کے علاوہ ایران کے مسئلے پر بھی مذاکرات کریں گی۔ان کا کہنا تھا کہ جب حکومتیں امداد کرنے کا وعدہ کرتی ہیں تو انہیں اپنے وعدے پورے بھی کرنے چاہئیں۔

’جن ممالک کے پاس وسائل ہیں، انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کس طرح زیادہ سے زیادہ مدد کرسکتے ہیں، کم سے کم نہیں۔‘

صرف تین عرب ملکوں نے مدد دی
 گزشتہ سال کے اختتام تک صرف تین عرب ملکوں، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور الجزائر نے بڑے پیمانے پر فلسطین کی مدد کی ہے
امریکی اہلکار

محترمہ رائس کے وفد میں شامل عہدیداروں کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے اختتام تک صرف تین عرب ملکوں، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور الجزائر نے بڑے پیمانے پر فلسطین کی مدد کی ہے۔

گزشتہ سال فلسطین کے لیے دنیا بھر سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد کے وعدے کیے گئے تھے جن میں سے عرب لیگ کے ارکان نے سات سو سترہ ملین ڈالر کی امداد کی پیش کش کی تھی۔ لیکن صرف ایک سو ترپن ملین ڈالر ہی فراہم کیے گئے ہیں اور وہ بھی ان تین ملکوں کی جانب سے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد