امریکی پادریوں پر پوپ کی تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاپائے روم بینیڈکٹ سولہویں نے سینیئر امریکی پادریوں یا بشپس کی یہ کہہ کر تنقید کی ہے کہ پادریوں کے ہاتھوں بچوں کے جنسی استحصال کے معاملات سے نمٹنے میں کبھی کبھی ان کا طریقہ کار بہت خراب رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پادریوں کے ہاتھوں بچوں کے جنسی استحصال کی ایک وجہ امریکی اقدار کا زوال بھی ہے اور اس بحران پر وہ بہت شرمندہ ہیں۔ پاپائے روم نے، جو امریکہ کے پہلے سرکاری دورے پر ہیں، امید ظاہر کی کہ آزمائش کی اس گھڑی سے چرچ کو ان برائیوں سے نجات حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
جمعرات کو پاپائے روم واشنگٹن میں ایک دعائیہ تقریب میں حصہ لیں گے جس میں تقریباً پینتالیس ہزار لوگ شرکت کریں گے۔ بدھ کو انہوں نے امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کی۔ بدھ کو ان کی اکاسویں سالگرہ بھی تھی۔ جنسی استحصال کے سکینڈل پر پاپائے روم نے اپنے خیالات کا اظہار ایک دعائیہ تقریب میں کیا جس میں سینکڑوں کی تعداد میں امریکی بشپ شامل تھے۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سے چرچ کی بدنامی تو ہوئی ہی ہے ساتھ ہی متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے میں دو ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں۔ پوپ بینیڈکٹ نے کہا کہ وہ ایسے واقعات دوبارہ نہیں ہونے دیں گے اور بچوں کو جنسی زیادتی کا شکار بنانے والوں کو کسی بھی قیمت پر پادری نہیں بننے دیا جائے گا۔ اسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ میں کیتھولک بشپس کی تنظیم کے سربراہ کارڈینل فرانسس جارج نے کہا تھا کہ اس سکینڈل اور جس غلط انداز میں اس سے نمٹا گیا، اس سے کچھ لوگوں کے عقیدے اور چرچ، دونوں کے لیے مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ ولی کے مطابق پاپائے روم نے عراق کی جنگ اور امریک میں صدارتی انتخاب کے لیے جاری مہم کا براہراست ذکر کرنے سے گریز کیا۔ صدر بش اور پاپائے روم کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ مشرق وسطی کے تنازعات جلدی اور جامع انداز میں حل کر لیے جائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||