ہم آہنگی مذاکرات پوپ کی میزبان میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینیڈکٹ نےمسلمانوں او عیسائیوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان پہلے مذاکرات کی میزبانی کریں گے۔ ویٹیکن سے جاری ہونے والے ایک اعلان کے مطابق مطابق پوپ بینیڈکٹ عیسائیوں اور مسلمانوں کے تعلقات کی بہتری کے اس سال نومبر میں دونوں مذاہب کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا انعقاد کریں گے۔ عیسائی اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات اس وقت زیادہ کشیدہ ہو گئے تھے جب پوپ بینیڈکٹ نے 2006 میں ایک ترک بادشاہ کے بیان کا حوالے دیتے ہوئے مذہب اسلام کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ پوپ بینڈکٹ کی تقریر کو مسلمان دنیا میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور مسلمان ملکوں میں مظاہرہ کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ پوپ نے بیان سے پیدا ہونے والی بد اعتمادی پر افسوس کا اظہار کیا لیکن مسلمانوں کی طرف معافی مانگنے سے گریز کیا۔ پوپ کی تقریر کے بعد تیتالیس ملکوں سے تعلق رکھنے مسلمان سکالروں نے عیسائیت اور مسلمانوں کے درمیان مذاکرات کی تجویز پیش کی تھی۔ ویٹیکن کے اعلان کے مطابق اسلام اور عیسائیت کی مشترکہ تین روزہ کانفرنس چار نومبر سے شروع ہو گی۔ کانفرنس میں پوپ بینڈکٹ خدا کی محبت، ہمسائے کی محبت، مذہبی اور روحانی بنیاد، اور انسانی وقار اور باہمی عزت کے موضوع پر تقاریر کریں گے۔ کیتھولک عیسائی اور مسلمان سکالروں کو امید ہے کہ یہ کانفرنس عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان باقاعدہ مذاکرت کی بنیاد فراہم کرے گی۔ | اسی بارے میں وضاحت کے باوجود مسلمان غصے میں15 September, 2006 | آس پاس پاپائے روم کے بیان کا مکمل متن17 September, 2006 | آس پاس پوپ: گفت وشنید ہونی چاہیے29 November, 2006 | آس پاس مسلم، عیسائی ہم آہنگی کی اپیل11 October, 2007 | آس پاس پوپ نے امن مذاکرات پر زور دیا09 June, 2007 | آس پاس مذاہب نفرت کے آلۂ کار نہیں:پوپ21 October, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||